Advertisement

کن کن چیزوں کے تلے اس درندگی کو چھپایا گیا
کبھی چھوٹے کپڑے تو کبھی دیر رات کا بہانا بنایا گیا

حیوانوں نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے چینخ دبائی اس کی
دبی چینخ میں سماج میں اسے بد کردار ٹھرایا گیا

ہوئی تو تھی وہ صرف ایک بار بے پر دہ
انصاف کے نام پہ ہزاروں بار بے پردہ بنایا گیا

کر بھی نہ پائی وہ کچھ خود کو بچانے کے لئے
عورت ذات کمزور ہے یہ سب کو بتایا گیا

اس سماج میں بھی محفوظ نہ رہ سکی بیٹیاں
جس سماج میں بیٹی بچاو کا نعرہ لگایا گیا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement