Advertisement

نظیر اکبر آبادی کی نظم "آدمی نامہ” اردو کی شاہکار نظموں میں شمار کی جاتی ہے۔ نظیر نے اب سے دو سو برس قبل عنوانی نظموں کی بنیاد ڈالی۔ زندگی کے مختلف مسائل جن پر عوام کی نگاہ نہیں جاتی ان کو اپنا موضوع بنایا۔

Advertisement

"آدمی نامہ” میں انہوں نے انسان کے عادت و اطوار اور خصائل پر بڑی فلسفیانہ نظر ڈالی ہے۔بادشاہ،فقیر ،امیر ،غریب ، نعمت پانے والا بھوکا رہنے والا سب آدمی ہیں۔ نیکی پر چلنے والا، شیطان کی راہ بہکانے والا، مسجد بنانے والا، امام، قادری،عابد حتیٰ کہ مسجد سے جوتی چرانے والا، جوتی چرانے والے کو تاڑنے والا یہ سب آدمی ہیں۔، یہاں آدمی کا دشمن آدمی ہے۔

Advertisement

آدمی بڑی بڑی دکان سجائے بیٹھا ہے‌ کوئی خوانچہ لگاے بیٹھا ہے ، کوئی امیر ٹھاٹ باٹ سے رہ رہا ہے۔ آدمی ہی نیکی کرتا ہے جنتی اور دوزخی اور آدمی ہی ہے۔ آدمی نیکیاں کرکے فرشتہ ہوجاتاہے اور فریب کاری سے شیطان بھی آدمی ہی ہوتا ہے۔ بہکاتا اور بہکنے والا آدمی ہی ہوتا ہے اور رہنمائی کرنے والا بھی آدمی ہی آدمی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement