Advertisement

حوالہ: یہ بند ایک لڑکا سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام اخترالایمان ہے۔

Advertisement

شعر 1:

  • دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر…………………………………………………. یہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو!

تشریح:

نظم کے ابتدائی بند میں شاعر اپنے بچپن کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ مشرقی آبادیوں میں سے کسی ایک بستی کے اونچے ٹیلوں، آم کے باغوں، کھیت کی مینڈوں، جھیلوں کے پانی، کبھی بستی کی گلیوں میں ادھ ننگے کم عمر بچوں کے ساتھ بچپن گزارا، کبھی تتلیوں کو پکڑنے کے لیے، سونی راہوں پر دوڑیں کبھی پرندوں کے گھونسلوں میں جھانکا، کبھی جلتی ریت پر کبھی سرد ہواؤں میں ادھر اُدھر دوڑیں، اور کبھی کم سن لڑکیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔

Advertisement

ان سب باتوں کو یاد کرتے ہوئے شاعر سوچتے ہیں کہ میرا لڑکپن میرا ہم زاد ہے جو ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے اور ساۓ کی طرح پیچھے لگا رہتا ہے۔ جیسے میں کوئی ملزم ہوں جو سزا کے خوف سے ادھر اُدھر چھپتا رہا ہوں۔ اخترالایمان نے اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن کیسا ہی ہو اس کی یادیں ایک ساۓ کی طرح انسان کے ساتھ رہتی ہے

Advertisement

شعر 2:

  • خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں…………………………………………….. یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو!

تشریح:

اس بند میں شاعر خدا کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا نے زمین پر سبزہ اس طرح اگایا ہے جیسے مخمل کے بستر ہوں، اس نے سورج اور چاند، تاروں کو روشنی بخشی اور ان کے درمیان ایک فاصلہ رکھا۔ آسمان ہمارے سروں پر گھروں کی چھت کی طرح سایہ کیے ہوئے ہیں۔ خدا نے سمندر میں موتی، مونگے، پہاڑوں میں لعل و گوہر کی کانیں بھر دیں، خدا نے انسان کو اس دنیا کی دیکھ بھال کے لیے پیدا کیا۔

خدا کی کرشمہ سازی ہے کہ اس نے ہوا میں خوشبو کو بھر دیا، وہی اجالا اور اندھیرا کرتا ہے، خدا کی سخاوت ہے کہ اس نے کنجوس کو بادشاہت سے نوازا اور مجھے مفلس بنایا۔ اس نے فضول باتیں کرنے والوں کو دولت عطا کی اور غریب لوگوں کو خزانچی بنایا۔ کمزور کو طاقتور بنایا اور مجھے بھکاری بنا دیا۔ میں جب کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوں تو میرا ہمزاد مجھ سے پوچھتا ہے کہ اخترالایمان تم ہی ہو؟ یعنی تمہاری خودداری اور غیرت کو کیا ہوا جو ان کے سامنے دست سوال دراز کر رہے ہو۔
اس میں شاعر نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نامعقول لوگوں کو اس طرح سے نوازا کہ باصلاحیت لوگ پیٹ بھر نے کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

Advertisement

شعر 3:

  • معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میں………………………………………………. یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو!

تشریح:

شاعر کہتا ہے خدا نے مجھے ذہین بنایا لیکن دھن دولت سے روپے پیسے سے اور کاروبار سے دوسرے لوگوں کو نوازا اور تمام عمر یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ صبح شام اس طرح رزق کے لیے ان کے آگے ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ اور اپنے لکھیں ہوے نغموں کو پیسے کی خاطر ان لوگوں کو فروخت کرنا پڑے گا۔ اور یہ دولت مند ان نغموں کو اپنا کہہ کر دوسروں کو سنائیں گے جب مجھے اپنا خیال آتا ہے تو لگتا ہے کہ میری حیثیت ایک آبلے کی سی ہے جسے ایک دن پھوٹ جانا ہے۔ ہر روز ایسا ہی ہوتا ہے لیکن میں اس امید پر رہتا ہوں کہ کبھی تو میرے بھی اچھے دن آئیں گے۔ تبھی میرا لڑکپن مجھ سے سوال کرتا ہے کہ اخترالایمان تم ہی ہو؟

شاعر خود کلامی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں بچپن میں بہت خوددار تھا کسی کی نہیں سنتا تھا لیکن جوان ہوکر ادھیڑ ہوا تو وہ خودداری باقی نہ رہی۔

Advertisement

شعر 4:

  • یہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوں……………………………………………. یہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں!

تشریح:

نظم کے آخری بند میں شاعر کہتا ہے کہ وہ لڑکا (لڑکپن) جب مجھ سے یہ سوال کرتا ہے کہ تمہاری خودداری کو کیا ہوا تو مجھے غصہ آ جاتا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہتا ہوں کہ وہ دیوانہ، وہ سر پھرا، وہ بے چین لڑکا جسے آج تم تلاش کر رہے ہو، اسے زمانے کی سختیوں نے اپنے ہاتھوں سے قبر میں دفنا دیا ہے۔ میں اس لڑکے سے کہتا ہوں کہ وہ لڑکا جو سماجی نا ہمواری کو ختم کرنا چاہتا تھا اور جس نے یہ خواب دیکھے تھے اس معاشرے میں کوئی بھوکا نہیں رہے گا، کوئی بے لباس نہیں ہوگا، سب کے سروں پر اپنی چھت ہوگی وہ لڑکا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ یہ سُن کر وہ لڑکا (لڑکپن) مسکراتا ہے اور آہستہ سے کہتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں۔

اس نظم میں اخترالایمان نے ایک شاعر کی بے بسی، مجبوری پر لڑکپن اور جوانی کے تضاد کے ساتھ اس طرح روشنی ڈالی ہے کہ خود بخود اخترالایمان کے لیے جزبہ ہمدردی ابھرنے لگتا ہے۔

Advertisement

سوالات و جوابات

سوال 1:- لڑکا جب شہری زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس میں کیا تبدیلیاں آ جاتی ہیں؟

جواب :- گاؤں کا سیدھا سادہ لڑکا جب شہری زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے قدم قدم پر جھوٹ اور مکروفریب کا سامنا کرنا پڑا۔ آہستہ آہستہ وہ بھی اس رنگ میں رنگتا چلا گیا۔ وہ اپنے نغموں کو پیسوں کی خاطر فروخت کرنے لگا۔ تاکہ وہ انہیں اپنا کلام کہہ کر سنائیں۔

سوال 2:- شہری لڑکا خدا کی کن کن نعمتوں کا اعتراف کر رہا تھا؟

جواب :- وہ سر سبز شاداب زمین، سورج، چاند اور تاروں کی روشنی، چٹانوں کو چیر کر دریا نکالنا، مٹی سے انسان کا بنانا، لعل و جواہر کی کانوں، سمندر میں ملنے والے موتی اور مونگے اور دلوں کو سکون پہنچانے والی ہواؤں کا اعتراف کر رہا ہے کیونکہ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔

Advertisement

سوال 3:- رزق کی تحصیل کی خاطر لڑکا کیا کیا کرتا ہے؟

جواب :- رزق کی تحصیل کے لیے وہ لڑکا اپنے نغمے دولت مند لوگوں کو بیچتا ہے اور وہ یہ نغمے اپنا کہہ کر دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

سوال 4:- اس نظم میں شاعر نے اپنی کس کشمکش کا کیا ہے؟

جواب :-اس نظم میں شاعر نے گاؤں کی سیدھی سادھی اور شہر کی فریب بھری دنیا (زندگی) کے تضاد کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ یہاں محنت و مشقت کے بعد روپیہ پیسہ ملے گا اور اس کے خواب پورے ہوں گے لیکن اس کا یہ سپنا پورا نہیں ہوا۔ یہاں آکر اُسے ایسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑے جو اس سے کمتر درجے کے تھے۔ لیکن ان کے پاس کامیاب زندگی گزارنے کے لیے پیسہ تھا۔ اس نظم میں شاعر نے اسی کشمکش کو پیش کیا ہے۔

Advertisement
تحریرمحمد طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement

Advertisement