نظیر اکبرآبادی نے اس نظم میں برسات کی آمد اور کبھی کبھی لگاتار کئی کئی دنوں تک بارش ہونے سے ہمارے اوپر جو کیفیت سے طاری ہوتی ہے یا ہم جن حالات سے دوچار ہو تے ہیں اس کو حسین انداز میں نظم کیا ہے۔ مثلاً کچے مکان والا مسلسل بارش سے گھبرا سکتا ہے مگر محلوں میں رہنے والے اس بارش سے بھی لطف لیتے رہیں گے۔ یہ نظم منظر کشی کی عمدہ مشال ہے۔ اس نظم میں انہوں نے کھیتوں میں سبزہ اور ہریالی، پھول، پتے، بدلیاں،پھوار،تیتر،بٹیر،فاختہ ،قمریاں، پپتیہ ،بگلا،پھول ،کانٹے ،سبھی کا تزکرہ کیا ہے۔

برسات میں غریب لوگوں کے مکان ٹپکنے کا بیان اس انداز میں کیا ہے کہ اس میں حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ کوئی برسات میں نہا رہا ہے۔ کوئی بھنگ پی کر مدہوش پڑا ہے۔ کسی کے گھر عمدہ پکوان پک رہے ہیں۔اور کسی کے گھر بارش کی وجہ سے مزدوری نہ ہونے اور چولہا بیھگ جانے کی وجہ سے روٹی بھی نہیں پکتی ہے۔ ‌

نظیر اکبر آبادی نے برسات کی” بہاریں نظم” میں برسات میں ہونے والے ہر عمل اور منظر کی عکاسی اپنے اشعار سے کر دی ہے۔ برسات کے دنوں میں سہاگنوں اور شوہروں کے ساتھ رہنے والی اور عورتوں کے جزبات کو خوب شاعری کا جامہ پہنایا ہے۔ انھوں نے برسات کے دنوں میں ان عورتوں کے جزبات کو بھی منظور کیا ہے۔ جن کے شوہر ملازمت یا روزگار کی وجہ سے پردیس گئے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر نظیر کی نظم” برسات کی بہاریں” شاہکار نظم ہے۔