• کتاب”جان پہچان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر07:نظم
  • شاعر کا نام: سکندر علی وجد
  • نظم کا نام:جگنو

نظم جگنو کی تشریح

برسات کی رات تھی اندھیری
کچھ نیند اچٹ گئی تھی میری

یہ شعر سکندر علی وجد کی نظم”جگنو” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ برسات کی اندھیری رات تھی۔ کچھ برسات اور کچھ اندھیرے کی وجہ سے میری نیند ختم ہو چکی تھی۔

پانی جو برس کے کھل گیا تھا
گلشن کا غبار دھل گیا تھا

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ جب برسات اور اندھیرے کی وجہ سے میری نیند ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بارش برسنے کے بعد موسم صاف ہو چکا تھا۔ایسے میں باغ پر موجود سارا گرد و غبار بھی دھک کر صاف ہو گیا۔

Advertisement
بیدار تھی باغ میں اکیلی
پھولوں سے لدی ہوئی چمیلی

شاعر کہتا ہے کہ رات کے اس اندھیرے پہر میں جب مطلع صاف ہو گیا تو پورے تنہا باغ میں سب کے سو چکنے کے بعد بھی باغ میں اکیلے ایک پودا ہنوز بیداد تھا۔ اور وہ پھولوں سے لدی ہوئی چمیلی تھی۔

اتنے میں جو رو چلی ہوا کی
قسمت ہی چمک گئی فضا کی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بارش کے چھٹنے کے بعد مطلع صاف ہوا تو اتنے میں تروتازہ ہوا کی ایک رو چلی۔تروتازہ ہوا کی اس لہر سے فضا کی قسمت بدل گئی اور وہ مہک اٹھی۔

ہونے لگی جگنوؤں کی بارش
فطرت کے جمال کی تراوش

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اایسے میں فضا میں جگنوؤں کی بارش سی ہونے لگی۔ یہ بارش فطرت کی خوبصورتی کو ٹپکا رہی تھی۔

روشن تھا اس قدر اندھیرا
گویا ہونے کو تھا سویرا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جگنوؤں کی بارش کے بعد گھپ اندھیرے میں اس قدر روشنی کا سماں ہو گیا کہ یوں لگ رہا تھا گویا صبح کا سویرا ہو چکا ہو۔

جگنو اس طرح اڑ رہے تھے
ہیروں میں پر لگے ہوۓ تھے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس روشنی کے ہونے کی وجہ جگنو تھے اور یہ جگنو فضا میں یوں ار رہے تھے کہ گویا جیسے خوبصورت چمکتے ہوئے ہیروں کو کسی نے پر لگا دیے ہوں۔

پیپل تو چنار بن رہا تھا
ہر شاخ سے نور چھن رہا تھا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ان جگنووں کی وجہ سے باغ میں موجود پیپل کے درخت بھی چنار کے درختوں کی طرح لالی بکھیرنے لگ گئے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ہر شاخ سے نور چھن کر آرہا ہو۔

ظلمت موتی لٹا رہی تھی
پریوں کی برات جا رہی تھی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس روشنی کے باعث یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا ظلمت کا اندھیرا ہی روشنی کے یہ موتی بکھیر رہا ہو اور یہ جگنو روشن پریوں کی قطار محسوس ہو رہے تھے۔

سوچیے اور بتایئے:

جگنوکس موسم میں دکھائی دیتے ہیں؟

جگنو برسات کے موسم میں دکھائی دیتے ہیں۔

لگا تار ہوا چلنے سے جگنوؤں کی کیا حالت ہوگئی ؟

لگاتار ہوا چلنے سے جگنوؤں کی بارش ہو نے لگی۔

باغ میں کون جاگ رہا تھا؟

باغ میں چمیلی کا پودا جاگ رہا تھا۔

شاعر نے جگنو کو ہیرا کیوں کہا ہے؟

شاعر نے جگنوؤں کی چمک کی وجہ سے اسے ہیرے سے تشبیہ دی ہے۔

پریوں کی برات جا رہی تھی ، سے کیا مطلب ہے؟

پریوں کی برات جانے سے مراد روشنی ہے یہاں اس سے مراد جگنو ہیں۔ جو پریوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔

مصرعے مکمل کیجیے:

برات، پر ، بارش ، چمک ،لدی ،موتی

پھولوں سے لدی ہوئی چمیلی۔
قسمت ہی چمک گئی فضا کی۔
ہونے لگی جگنوؤں کی بارش۔
ہیروں میں پر لگے ہوۓ تھے۔
ظلمت موتی لٹا رہی تھی۔
پریوں کی برات جا رہی تھی۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:

گلشنپھولوں کے بنا گلشن ویران تھا۔
چمیلیمجھے چمیلی اور مونگرے کے پھول پسند ہیں۔
جگنوجگنو اندھیرے نیں میں چمکتا ہے۔
سویراجگنو کے جگمگا نے سے سویرا ہو گیا۔
نورمحمد صلی و علیہ وسلم کی ولادت پر زمین سے آسمان تک نور ہی نور تھا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے ہم قافیہ لفظ نظم میں سے تلاش کرکے لکھیے:

اکیلی چمیلی
ترواش بارش
اندھیرا سویرا
اندھیری میری

عملی کام: اس نظم سے وہ اشعار اپنی کاپی میں نقل کیجیے جن میں جگنو ،باغ اور چنار کے الفاظ آئے ہیں۔

بیدار تھی باغ میں اکیلی
پھولوں سے لدی ہوئی چمیلی
ہونے لگی جگنوؤں کی بارش
فطرت کے جمال کی تراوش
جگنو اس طرح اڑ رہے تھے
ہیروں میں پر لگے ہوۓ تھے
پیپل تو چنار بن رہا رہا تھا
ہر شاخ سے نور چھن رہا تھا