سوال: نظم خاکِ وطن کے اشعار کی تشریح لکھیے۔

  • پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے بہت محبت ہے اور ہمیں اپنے وطن کے ہر اک باغ سے بھی بہت زیادہ محبت اور لگاؤ ہے۔
  • اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے وطن کی صبح شام سے محبت ہے اور اپنے وطن کے شہروں کے ناموں سے ہمیں بہت زیادہ پیار ہے۔
  • اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے وطن کے ہر ایک گاؤں سے پیار ہے اور برگد کے گھنے پیڑ جن کی چھاؤں میں ہم بیٹھ جاتے ہیں، ہمیں ان سے بھی بہت پیار ہے۔
  • اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے وطن کی تمام عمارتوں سے پیار ہے چاہے وہ تاج میں ہو یا لال قلعہ اور اس کے علاوہ اپنی روایت کو بھی بہت پسند کرتے ہیں۔
  • اس شعر میں شاعر نے اللہ سے دعا کی ہے کہ میرے آقا ہمارے دشت و دمن کو ہمیشہ سلامت رکھنا اور اسی کے ساتھ ساتھ ہمارا آسمان بھی ہمیشہ گنگناتا رہے یعنی اس میں ہمیشہ چمک باقی رہے۔
  • اس شعر میں شاعر نے ہمالیہ پہاڑ کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کی اونچائی ہمیشہ برقرار رہے مطلب جس طرح ہمالیہ پہاڑ کی اونچائی بہت زیادہ ہے اس طرح ہماری کامیابی ہمارے قدم چومیں اور ہم راہِ راست کی طرف گامزن ہو جائیں۔
  • اس شعر میں شاعر نے کشمیر کے ایک مشہور چشمہ شیش ناگ کے بارے میں گفتگو کی ہے کہ وہ ہمیشہ رواں رہے اور ساتھ ہی ساتھ وادی کے چناروں کا بھی ذکر کیا ہے کہ موسم خزاں میں ان پتوں کی چمک یا آگ ہمیشہ برقرار رہے۔ چناروں کے سرخ رنگ کو یہاں آگ سے تشبیہ دی ہے۔
  • اس شعر میں شاعر نے بنارس اور اودھ دو شہروں کا ذکر کیا ہے شاعر نے اس شعر میں یہ کہا ہے کہ بنارس کی خوبصورت صبح ہمیشہ قائم رہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اودھ کی شام بھی اس طرح قائم رہے۔
  • اس شعر میں شاعر اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے کہ سیکری کا محل ہمیشہ کامیاب رہے اور نینی جھیل کے گنول ہمیشہ کھلتے رہیں۔
  • اس شعر میں شاعر نے یہ دعا کی ہے کہ تاج محل کی خوبصورتی ہمیشہ برقرار ، قائم و دائم رہے جس کا شمار دنیا کے ساتویں عجوبوں میں کیا جاتا ہے۔
  • ان اشعار میں شاعر یہ دعا کرتا ہے کہ اجنتا کا غار ہمیشہ چمکتا رہے اور ہمارے ملک کے جنگل اور وہاں کی سرسبز و شاداب ہریالی ہمیشہ باقی رہے۔
  • اس شعر میں شاعر نے دھانوں کا ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے کھیت ہمیشہ سرسبز و شاداب رہیں اور ہماری زمین سے اچھی اچھی فصل اگتی رہے۔
  • اس شعر میں شاعر نے آموں کے بور کا ذکر کیا ہے۔ جس وقت آم کے پیڑوں پر بور آتے ہیں اس وقت کا منظر نہایت ہی دلکش اور حسین ہوتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی لڑکیاں اپنے جھولوں کو آم کے پیڑوں پر ڈالتی ہیں اور جھولے جھولتی ہیں۔
  • ان اشعار میں شاعر نے دیوالی کا ذکر کیا ہے کہ ہمارے ملک میں دیوالی کو ہر ایک شخص چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان دونوں مل کر مناتے ہیں۔ اسی طرح جب عید کا تہوار ہوتا ہے تو دونوں آپس میں گلے لگتے ہیں یعنی ان کا مقصد بھائی چارگی دیکھنا ہے۔
  • ان اشعار میں شاعر نے اردو کی عظیم ہستیوں کا ذکر کیا ہے کہ جیسے پریم چندر ،غالب اور اقبال۔ شاعر نے ان کی عظمت کا ذکر کیا ہے کہ ان کی وجہ سے اردو ادب کو بہت زیادہ سرمایا حاصل ہوا ہے۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔