Advertisement
  • کتاب” جان پہچان "برائے چھٹی جماعت۔
  • سبق نمبر:28
  • شاعر کا نام: مدحت الاختر
  • نظم کا نام: درختوں سے محبت

نظم درختوں سے محبت کی تشریح

درختوں پر ہے چڑیوں کا بسیرا
درختوں سے ملے سایہ گھنیرا
خوشی سے چہچہاتے ہیں پرندے
خدا کی حمد گاتے ہیں پرندے
مسافر دھوپ سے گھبرا کے آئیں
تو ٹھنڈی چھاؤں میں آرام پائیں

یہ اشعار مدحت الاختر کی نظم سے لیے گئے ہیں۔ اس بند میں شاعر درختوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ درخت پرندوں کا گھر ہوتے ہیں ان پہ چڑیاں اپنا بسیرا کرتی ہیں۔ ان درختوں ہی کی مدد سے ہمیں گھنا سایہ بھی مہیا ہوتا ہے۔ درختوں پر مقجود پرندے بیٹھ کر اپنی مدھر آ وازوں میں اللہ کی عظمت کے گیت گاتے ہیں۔ اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ جبکہ یہی درخت مسافروں کے لئے شجر سایہ دار بن جاتے ہیں اور انھیں دھوپ سے بچا کر اپنی چھاؤں تلے پناہ دیتے ہیں۔ یوں دھوپ کے گھبرائے مسافر ٹھنڈی چھاؤں میں آرام پاتے ہیں۔

سڑک، میدان ، رستوں پر گھروں پر
درختوں کا اثر ہے موسموں پر
بڑے بوڑھے ہمارے کہہ گئے ہیں
درختوں سے ہزاروں فائدے ہیں
بڑوں کی یہ نصیحت یاد رکھیں!
درختوں کو سدا آباد رکھیں

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ درخت کا اثر ہر جگہ اور ہر ایک شے پہ ہوتا ہے خواہ وہ سڑکیں ہوں یا میدان یا کھلے رستے یا گھر ہوں اگر وہاں درخت موجود ہوں تو وہ کے موسمی اثرات میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی طرح ہمارے بڑے بوڑھے بزرگ یہ نصحیت کر کے گئے ہیں کہ ان درختوں سے انسان کو محض ایک سایہ نہیں بلکہ اور بھی ہزار طرح کے فوائد میسر ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ان کی نصحیت کو یاد رکھتے ہوئے ان درختوں کو ہمیشہ سر سبز و شاداب رکھنا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

پرندے کہاں بسیرا کرتے ہیں؟

پرندے گھنیرے درختوں میں بسیرا کرتے ہیں۔

Advertisement

درختوں سے مسافروں کو کیا فائدہ ہے؟

درخت مسافروں کے لیے خجر سایہ دار کا کام کرتے ہیں ۔ یہ دھوپ سے ستائے مسافروں کو سایہ مہیا کرتے ہیں۔

بزرگوں نے درختوں کے بارے میں کیا کہا ہے؟

بزرگوں نے درختوں کے ہزار فائدے گنوائے ہیں اور ان کی حفاظت کو ضروری قرار دیا ہے۔

درختوں کو ہمیشہ آ با در کھنے کا کیا مطلب ہے؟

درختوں کو ہمیشہ آ با در کھنے سے مراد ہے کہ ان کی حفاظت کی جائے ۔ بلا وجہ درخت نہ کاٹے جائیں اور زیادہ سے زیادہ نئے درخت اگائے جائیں۔ تاکہ پرندے ان پہ بسیرا کر کے انھیں اپنا مسکن بنا کر آباد کیے رکھیں۔

نیچے دیے ہوئے مصرعوں کو مکمل کیجیے:

  • درختوں سے ملے سایہ گھنیرا
  • خدا کی حمد گاتے ہیں پرندے
  • مسافر دھوپ سے گھبرا کے آئیں
  • درختوں کا اثر ہے موسموں پر
  • بڑوں کی یہ نصیحت یاد رکھیں!

حصہ ‘الف’اور ‘ب’کے صحیح جوڑ ملائیے۔

الفب
بسیرا گھنیرا
موسموں گھروں
چہچہاتے گاتے
آئیںپائیں
یاد آباد

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے واحد لکھیے۔

واحدجمع
درختدرختوں
چڑیاچڑیوں
رستہرستوں
گھرگھروں
موسمموسموں
سڑکسڑکوں

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے۔

بعض لفظوں کا تلفظ ایک جیسا ہوتا ہے لیکن معنی اور املا کے اعتبار سے وہ مختلف ہوتے ہیں ۔ جیسے سدا‘ اور’ صدا‘ پہلے لفظ کا مطلب ہے ” ہمیشہ جب کہ دوسرے کا مطلب’ آواز‘ ہے۔ اسی طرح نیچے لکھے ہوئے لفظوں کا مطلب استاد کی مدد سے اپنی کاپی میں لکھیے۔

عاری : عاجز آنا
آری :لکڑی یا کوئی چیز کاٹنے کا اوزار
کسرت:ورزش
کثرت:زیادتی ، بہتات
عام: کوئی بھی ، عام طور پر وغیرہ
آم:پھل
جال :جالی کا بنا جال ، مچھلیاں پکڑنے کے لیے
جعل:جھوٹا ، نقلی
علم :تعلیم
الم: پرچم ، بلندی

لکھیے: درختوں کے فائدے پر پانچ جملےلکھیے۔

درخت قدرتی ماحول کا اہم حصہ ہیں یہ ہوا کی صفائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ ہوا میں موجود اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر لیتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ زمین پر موجود تمام جاندار کی زندگی کسی نہ کسی طرح پودوں سے جڑی ہوتی ہے۔ ہم درختوں سے آکسیجن کے علاوہ لکڑی بھی حاصل کرتے ہیں۔ درخت ہمیں پھل، پھول اور کھانے کی دوسری چیزیں مہیا کرتے ہیں۔ ان کے مختلف حصوں سے دوائیں بھی بنائی جاتی ہیں۔ درخت پرندوں کے لیے قدرتی مسکن بھی ہوتے ہیں۔ درخت زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ یہ آندھیوں کی رفتار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

خوش خط لکھیے۔

بسیرا ، گھنیرا ، چھاؤں ، فائدے ، نصیحت۔