Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے تیسری جماعت
  • سبق نمبر 16: نظم
  • شاعر کا نام: نظیر اکبر آبادی
  • نظم کا نام: دوالی

نظم دوالی کی تشریح

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا
ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا
سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا
کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا
عجب بہار کا ہے دن بَنا دوالی کا

یہ اشعار نظیر اکبر آبادی کی نظم ” دوالی ” سے لیے گئے ہیں۔ اس بند میں شاعر دوالی کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے ہی دوالی کی آمد ہوئی ہر گھر ہر مکان میں دوالی کے دیے پھر سے روشن ہو گئے ہیں۔ اب ہر گھر میں چراغاں ہونے کے باعث ہر جگہ پہ روشنی دکھائی دے رہی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دوالی کا یہ خوبصورت منظر ہر ایک کے دل کو اچھا لگ رہا ہے۔ دوالی کا یہ تہوار کسی کے دل کو لطف دیتے ہوئے اچھا لگ رہا ہے۔ دوالی کا یہ دن ایک عجیب مسرت لیے ہوئے ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ دن بہار یعنی پھول کھلنے کا دن ہو۔

جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار
کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار
کھلونے کھیلوں ،بتاسوں کا گرم ہے بازار
ہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار
سبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جیسے ہی دوالی کی آمد ہوئی تو اس تیوہار پہ بازار میں بھی ایک عجیب طرح کی رونق اور گھما گھمی دیکھنے کو ملی۔ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق اسے منانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوکان داروں سے لین دین کے معاملے میں کوئی نقد حساب چکا رہا ہے تو کوئی ادھار کر رہا ہے۔ بازار میں بچوں کے کھلونوں ، مختلف کھیلوں کے سامان اور بتاسوں کی خوب بکری ہو رہی ہے۔یہی نہیں بازار میں بھی دوالی کی رونق اپنے عروج پہ ہے اور لوگوں نے دوکانوں میں چراغاں کر رکھا ہے۔ ہر ایک کو دوالی کے تہوار کو اچھے طور سے منانے کی فکر ستائے جا رہی ہے۔

مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی
پکارتے ہیں کہ لالہ دوالی ہے آئی
بتاسے لے کوئی برفی کسی نے تلوائی
کھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی
گویا انھوں کے واں راج آ گیا دوالی کا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ دوالی کے تہوار پہ سب سے زیادہ مانگ مٹھائیوں کی ہے۔ جس کی وجہ سے بازار میں کئی حلوائیوں ںے اپنی دوکانیں سجا رکھی ہیں۔ یہ حلوائی پکار لگا کر گاہکوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ لالہ دوالی کا تہوار آیا ہے۔ اس لیے کوئی ان سے بتاسے خرید رہا ہے تو دوسری طرف کوئی برفی تلوا رہا ہوتا ہے۔ مگر ان مٹھائی والوں سے بھی بڑھ کر ایک شخص کا کاروبار خوب چمک رہا ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ کھلونوں کی دوکانیں ہیں۔ جہاں گویا آج دوالی کا راج ہے کیونکہ تمام بچے ان کھلونوں والی دوکانوں پہ جمع ہیں۔

Advertisement

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

دیوالی کے موقعے پر بازار میں کیا کیا خاص چیزیں نظر اتی ہیں ؟

دیوالی کے موقع پر بازار میں چراغ ، بتاسے، مٹھائی اور کھلونے نظر آتے ہیں۔

دیوالی کے تہواد کی کیا خوبیاں ہیں ؟

دیوالی چراغوں اور خوشیوں کا تیوار ہے۔ جس پہ پٹاخوں کے ذریعے آتش بازی کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

دیوالی پر دیوں کے علاوہ اور کون کون سی چیزیں جلائی جاتی ہیں؟

دیوالی پر دیوں کے علاوہ پٹاخوں اور آتش بازی کا انتظام ہوتا ہے۔

ان الفاظ کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریے۔

اجالا ، چراغوں ، دکانیں ، نقد

  • ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا
  • کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار
  • ہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار
  • مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی

خانوں میں دیے ہوئے واحد کی جمع اور جمع کی واحد لکھیے۔

دلدلوں
دوکاندوکانوں
حلوائیحلوائیوں
چراغچراغوں
تہوارتہواروں
بتاشہبتاشوں
کھلوناکھلونوں
بہادربہادروں

ان مصرعوں میں الفاظ کی ترتیب کو درست کرکے خالی جگہوں میں لکھیے۔

  • ان سے بن آئی زیادہ کھلونے والوں کی
  • کھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی
  • چراغوں کی ہر اک دُکاں میں بہار ہو رہی ہے
  • ہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار
  • دوالی کا مزا کسی کے دل کو خوش لگا
  • کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

جلابجھا
اجالااندھیرا
ادھارنقد
بہارخزاں
خوشیغمی
زیادہتھوڑا

پچھلے اسباق میں آپ اسم کی تعریف پڑھ چکے ہیں۔ اس کی مدد سے اس نظم سے پانچ اسم تلاش کرکے لکھیے۔

مکاں ، دیوالی ، بہار ، حلوائی ، برفی۔

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے۔

سماں ، خوش ، تہوار ، بتاشوں ، چراغوں ، مٹھائیوں۔