Advertisement
  • نظم : ریل گاڑی
  • شاعر: کوثر انصاری

تعارف نظم:

یہ اشعار ہماری درسی کتاب کی نظم ” ریل گاڑی“ سے لیے گئے ہیں۔ اس نظم کے شاعر کا نام کوثر انصاری ہے۔ ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستان میں بچوں کی کہانیاں اور بچوں کے کھیل بہت مشہور ہیں۔بچے اپنے بچپن میں کہانیوں اور کھیلوں میں گزار دیتے ہیں اور پھر جوانی میں اس کو یاد کرتے ہے۔اسی سلسلے میں کوثر انصاری کی یہ نظم ریل گاڑی دراصل بچوں کے کھیل کی عکاسی کرتی ہے۔

ریل گاڑی ایک لمبی گاڑی ہوتی ہے۔ یہ نظم ایک دڑامائی نظم ہے، نظم میں بچوں کو ریل گاڑی بنانے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔

Advertisement
ہو کے اگاڑی اور پچھاڑی
آؤ کھیلیں چھک چھک گاڑی

ریل گاڑی ایک قسم کا کھیل ہے جو ہندوستان میں بچے اپنے بچپن میں کھیلا کرتے ہیں۔ کوثر انصاری نے اسی کھیل کو اس نظم میں اپنا موضوع بنایا ہے۔ نظم کے پہلے شعر میں کوثر انصاری فرماتے ہے کہ کچھ بچے آگے اور کچھ پیچھے آ کے ریل گاڑی بنائیے۔

Advertisement
بن جائے انجن کچھ بچے
باقی سب بن جائے ڈبے

شاعر فرماتے ہیں کہ کچھ بچے انجن بنیں گے اور کچھ ریل گاڑی کے ڈبے۔

Advertisement
بائیں ہاتھ سے خوب جکڑلو
اک دوجے کی کمر پکڑ لو

اس شعر میں شاعر فرماتے ہے کہ سب بچے ایک دوسرے کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لو اور ایک دوسرے کی کمر کو پکڑ لو۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ریل کے ڈبے آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔

دائیں ہاتھ لاؤ منہ تک
دھواں اڑاؤ بھک بھک بھک

ریل گاڑی کے کھیل کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر فرماتے ہیں کہ سب بچے دایاں ہاتھ اپنے منہ پر لائیں اور ریل کی طرح دھواں اڑائیں۔

Advertisement
لے کر اپنے ہاتھ میں ڈنڈی
سگنل مین دکھائیے جھنڈی

اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ ایک بچہ اپنے ہاتھ میں ایک ڈنڈی لے لے اور جھنڈی دکھائے یعنی وہ سگنل مین بنے۔

بن جائے ایک بچہ ٹی سی
پاس ٹکٹ کی کرے تلاشی


اس شعر میں شاعر ٹی سی کی عکاسی کرتا ہے اور ایک بچے کو ٹی سی بننے کے لیے کہہ رہا ہے۔ ریلوے میں ایک ملازم ہوتا ہے جو ٹی سی کہلاتا ہے اسکا کام ٹیکٹ چیک کرنا ہوتا ہے۔

Advertisement
ملے گاڑکی جس کو ڈیوٹی
ہاتھ میں اپنے لیے وہ سیٹی

اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جس بچے کو گاڈ کی ڈیوٹی ملے گی وہ اپنے ہاتھ میں سیٹی لے۔

دیکھ کے سگنل ہاتھ ہلائے
منہ سے اپنے وسل بجائے

شاعر فرماتے ہیں کہ جب گاڈ سگنل دیکھے تو اپنا ہاتھ ہلائے اور اپنے منہ سے وسل بھی بجائے۔

Advertisement
پھر جو موٹر مین بنے گا
سب سے آگے وہ بیٹھے گا

شاعر فرماتے ہیں کہ جو بچہ موٹر مین بنے گا اور وہ سب سے آگے بیٹھے گا۔

ریل چلے گی رفتہ رفتہ
تیز کبھی ہوگی آہستہ

شاعر اس شعر میں ریل کی رفتار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ریل رفتہ رفتہ چلے گی اور کبھی کبھی تیز بھی چلے گی۔

Advertisement
دیکھ کے سگنل لال رکے گی
ہرا نظر آیا تو چلے گی

اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جب لال سگنل دکھے گا تو ریل رکے گی اور ہرا سگنل دکھنے پر گاڑی چلے گی۔

آئے گا اسٹیشن جب جب
رک جائے گی گاڑی تب تب

نظم کے آخری شعر میں شاعر فرماتے ہیں جب جب اور جہاں جہاں اسٹیشن آئے گا وہاں گاڑی رکے گی۔اور اس طرح سے شاعر پوری نظم میں ریل گاڑی کی تصویر کشی کرتا ہے اور بچوں کو ریل بنانے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: ٹی سی کیا کام کرتا ہے؟

ج: ٹی سی ٹکٹ چیک کرنے کا کام کرتا ہے

سوال: منہ سے وسل کون بجا تا ہے؟


ج: منہ سے وسل گاڈ بجاتا ہے۔

Advertisement


سوال: سب سے آگے کون بیٹھے گا؟


ج: سب سے آگے انجن مین بیٹھے گا۔


سوال: ریل کہاں پر رکے گی؟


ج: ریل اسٹیشن پر رکھے گی۔

Advertisement


2: سبق ذہن میں رکھ کر درج ذیل مصرعوں کو مکمل کیجیے۔

باقی سب بن جائے ڈبے
ایک دوجے کی کمر پکڑ لو
سگنل مین دکھائے جنڈی
ملے گاڑ کی جس کو ڈیوٹی
منہ سے اپنے وسل بجائے
رک جائے گی گاڑی تب تب

3: کالم ‘الف’ کو کالم ‘ب’ سے ملائیے۔


ریل ایک لمبی گاڑی ہوتی ہے
جنڈی کپڑے کی بنی ہوتی ہے
اسٹیشن پر ریل ٹھہرتی ہے
سگنل دیکھ کر گاڑی رکتی ہے
دھواں ماحول کو آلودہ کرتا ہے

Advertisement

4: درج ذیل ایسے انگریزی الفاظ ہیں جو اردو میں استعمال ہوتے ہیں استاد کی مدد سے مزید ایسے پانچ الفاظ لکھیے۔

Engine انجن :
Election : الیکشن
Oxygen آکسیجن
Polythene پولیتھین
Computer کمپیوٹر
Internet : انٹرنیٹ
Station : سٹیشن
Motor Man : موٹر مین
Whistleوسل :
Duty : ڈیوٹی
Guard گاڑ :
Ticket : ٹکیٹ
Pass : پاس
Signal سگنل :
Advertisement