Advertisement

"شہد کی مکھی” نظم علامہ اقبال کی ہے۔ اس میں انہوں نے شہد کی مکھی کے ذریعہ لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ جس طرح شہد کی مکھی شہد کے لیے پاگلوں کی طرح محنت کرتی ہے۔ اسی طرح تم بھی اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں رہو۔

Advertisement

نظم کے پہلے حصے میں شاعر کہتا ہے کہ شہد کی مکھی کبھی ایک پھول پر بیٹھ جاتی ہے اور کبھی دوسرے پھول پر۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ بتاؤ یہ ان پھولوں پر کیا تلاش کرتی ہے۔ اور یہ مکھی کیوں چمن میں آتی ہے؟ آخر اس کا کیا کام ہے؟ اگر یہ بات مجھے کسی نے سمجھا دی تو میں اسے عقلمند سمجھوں گا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس مکھی کو سبزے سے کچھ کام ہے یا پھر صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے۔یا پھر اسے باغ کے پرندوں کی آواز سے پیار ہے۔ پھر شاعر لوگوں سے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ یہ آخر باغ میں کیوں آتی ہے اور کیا لینے آتی ہے۔ پھر شاعر کہتا ہے کہ اگر یہ ناسمجھ عقل تمہاری کام نہیں کر رہی ہے تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ وہ کیوں آتی ہے، تو تم میری بات دھیان سے سنو کہ شہد کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے جو ایک طرح کا رس ہوتا ہے۔ یہ آوارہ مکھی اسی چیز کی وجہ سے پاگل رہتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ باغ میں آتی ہے اور اسی وجہ سے پھولوں پر بیٹھتی ہے۔ اور اس رس کا اللہ نے پھولوں میں چھپا کر رکھا ہے اور مکھی اسی رس کو اپنے چھتے میں اڑا کر لے جاتی ہے۔ اور ہر پھول سے یہ اسی رس کو چوستی پھرتی ہے اور یہ کام بہت بڑا ہے۔ تم اسے بے کار مت سمجھنا۔

Advertisement

علامہ اقبال پھر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ مکھی نہیں ہوتی تو ہمیں شہد ہی نہیں ملتا۔ یہ مکھی نہیں ہے بلکہ خدا کی ایک نعمت ہے اور یہ مکھی پھولوں سے شہد کو اڑا کر خود بھی کھاتی ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتی ہے۔ انسان کے لئے یہ شہد اس کی غذا دوا سب کچھ ہے اور اس کے لیے شفا بھی ہے۔ اگر تمہیں ہوش اور عقل ہے تو اس بات کو سمجھ لو۔ اپنی عقل میں بٹھا لو کہ جس جنون اور پاگل پن کے ساتھ یہ شہد ڈھونڈتی ہے اسی طرح تم بھی علم کی تلاش کرو۔

Advertisement

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: شہد کی مکھی باغ میں کیوں آتی ہے؟

جواب: شہد کی مکھی باغ میں شہد لینے آتی ہے۔

سوال: شہد کی مکھی شہد کس طرح بناتی ہے؟

جواب: شہد کی مکھی شہد پھولوں کا رس چوس کر بناتی ہے۔

Advertisement

سوال: شاعر نے شہد کی مکھی کو آوارہ کیوں کہا ہے ؟

جواب: شاعر نے شہد کی مکھی کو آوارہ اس لیے کہا ہے کہ وہ شہد جو ایک طرح کا رس ہوتا ہے اسی کے لئے کبھی پھول پر کبھی کسی باغ میں آواروں کی طرح پھرتی رہتی ہے۔

سوال: شہد کی مکھی لوگوں کو کیا پیغام دیتی ہے ؟

جواب: شہد کی مکھی لوگوں کو جد و جہد ،جستجو کرنے اور طالب علموں میں لگن پیدا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

Advertisement

سوال: آخری مصرعے میں شاعر نے کیا کہا ہے ؟

جواب: آخری مصرعے میں شاعر نے یہ کہا ہے کہ اگر تم ہوشیار ہو ،تمہارے پاس عقل ہے تو یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ تم علم کو اس طرح ڈھونڈو جس طرح شہد کی مکھی شہد کو آواراہ کی طرح تلاش کرتی ہے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے مترادف لکھیے۔

پھولشگفتہ
گلزارچمن
مگسشہد کی مکھی
داناعقلمند
صباہوا

نیچے دیے ہوئے مصرعوں کو پورا کیجیے۔

سبزے سے ہے کچھ کام کہ ۔۔مطلب ہے صبا سے
رکھا ہے خدا نے اسے ۔۔پھولوں میں چھپا کر
کہتے ہیں جیسے شہد ،وہ اک طرح کا رس ہے
تم شہد کی مکھی کی طرح ۔علم کو ڈھونڈو ۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement