Advertisement
  • نظم : فاطمہِ بنتِ عبداللہ
  • شاعر : علامہ محمد اقبال
  • ماخوذاز : کلیاتِ اقبال اُردو

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”فاطمہِ بنتِ عبداللہ“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام علامہ محمد اقبال ہے۔ یہ نظم کلیاتِ اقبال اُردو سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

علامہ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوۓ۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ انٹر سکاچ مشن کالج سے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد انگلستان چلے گئے۔ لندن سے بارایٹ لا کرنے کے بعد جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ واپس آ کر وکالت کرتے رہے۔ ۱۹۳۸ء میں فوت ہوئے۔

Advertisement

لاہور میں شاہی مسجد کے باہر آسودۂ خاک ہیں۔ علامہ محمد اقبال ہمارے قومی اور ملّی رہنما ہیں۔ اردو اور فارسی زبان کے عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک مفکر اور فلسفی کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ وہ جیسویں صدی میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے ایک بڑے علم بردار تھے۔ انھوں نے اپنے فکر و فن سے مشرق و مغرب کے ادیبوں ،شاعروں اور عام لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ ان کی نظم و نثر کے تراجم کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔

Advertisement

اردو اور فارسی کلام کے علاوہ ان کا نثری سرمایہ شائع ہو چکا ہے۔ اقبال کی تصانیف میں انوار اقبال، خطبات اقبال، فارسی شعری مجموعے، اور اردو مجموعہ ہاۓ کلام میں بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز (اس میں فارسی کلام بھی شامل ہے) متعدد مرتبہ شائع ہو چکے ہیں۔ اقبال کے خطوط کے مختلف مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ ان میں کلیاتِ مکاتیب اقبال جو بھارت سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ہے، زیادہ اہم ہے۔

فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے
ذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے

تشریح : علامہ اقبال نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ مسلمانوں کے لیے بہت کڑا اور مشکل وقت تھا۔ مسلمان جذبہ حریت کو بھول چکے تھے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کہ ان میں جذبہ حریت بیدار کیا جائے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے سے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ اس لیے اس نظم میں انھوں نے ایک تاریخی واقعہ کا سہارا لے کر مسلمانوں کے اندر جذبۂ حریت بیدار کرنے کی کوشش کی۔

Advertisement

یہ واقعہ طرابلس کی جنگ سے متعلق ہے جو لیبیا کے مسلمانوں نے اٹلی کے خلاف آزادی کے حصول کے لیے لڑی تھی۔ اس جنگ میں فاطمہ نامی ایک معصوم بچی شہید ہوئی جو میدان جنگ میں مجاہدین کو پانی پلاتی تھی۔ علامہ محمد اقبال اس بچی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے فاطمہ! تو مسلمان امت کے لیے عزت اور فخر کا باعث ہے۔ کیونکہ تو نے موت کو گلے لگا کر شہادت حاصل کی اور مسلمانوں کی لاج رکھی۔ علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ فاطمہ جیسی بچیاں ہمارے ملک اور امت کے لیے فخر کا باعث ہیں۔

یہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھی

تشریح : اس شعر میں علامہ محمد اقبال ، فاطمہ بنت عبداللہ کی روح سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے فاطمہ! تو ریگستان میں رہنے والی ایک پاک دامن لڑکی تھی لیکن اللہ تعالی نے تجھے ایک بڑی اہم ذمہ داری کے لیے چن لیا تھا۔ تو بہت خوش قسمت ہے کہ تیرے ذمے اللہ تعالی نے مجاہدین کو پانی پلانے کا فریضہ سونپا۔ کسی کو پانی پلانا ویسے ہی بڑی سعادت کی بات ہے۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالی دس نیکیاں عطا کرتا ہے اور پھر ان مجاہدین کو پانی پلانا جو اللہ تعالی کے دین اور وطن کا حفاظت کے لیے دوسروں سے جنگ لڑ رہے ہوں، ان کو پانی پلانا تو بہت زیادہ اجر و ثواب کا کام ہے۔ تو انتہائی خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالی نے اس اہم فریضے ادائیگی کے لیے تمھارا انتخاب کیا۔

Advertisement
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپَر
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر

تشریح :

اس شعر میں علامہ اقبال فاطمہ بنت عبداللہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ جہاد اللہ تعالیٰ کے لیے لڑی جارہی تھی اور تو نے اس جہاد میں مجاہدین کو پانی پلا کر بہت اچھا کام کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ جنگ اس رب کائنات کی راہ میں بے تیغ و سپر لڑی جارہی تھی اور بیشک تمام مجاہدین کا بھروسہ صرف رب کی ذات پر تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس جنگ میں مجاہدین کا لڑنا اور تجھے انھیں پلانا ایک ایسی جسارت ہے جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تم سب کو شہادت کا رتبہ پانے کا کس حد تک شوق تھا اور پھر اللہ نے تمھیں چُن لیا اور تمھیں شہادت کی موت نصیب کردی۔

یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

تشریح : علامہ اقبال اس شعر میں اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں تو یہ سمجھا تھا کہ مسلمان قوم مکمل طور پر تباہی و بربادی سے دوچار ہو چکی ہے۔ جس طرح خزاں ہرے بھرے باغ کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہے اسی طرح امت مسلماں کا باغ خزاں رسید ہو چکا ہے۔ لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ اس اجڑے ہوۓ گلشن میں ابھی فاطمہ جیسی کلیاں موجود ہیں۔ جس طرح کوئی چیز جل جاۓ تو راکھ ہی باقی رہ جاتی ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ اب اس راکھ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور پھر اچانک انسان کو اس راکھ میں سے کوئی قیمتی شے مل جاتی ہے۔ وہ شے اس کے لیے امید کی کرن بن جاتی ہے کہ ابھی سب کچھ نہیں جلا بلکہ کچھ چیزیں ابھی باقی ہیں۔ اسی طرح فاطمہ بھی اس اجڑے ہوۓ گلستاں میں ایک کلی کی مانند ہے جو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ گلشن ابھی اجڑا نہیں ہے۔ اس میں نئے پودے جنم لے سکتے ہیں۔ اس میں پھر سے بہار آ سکتی ہے۔

Advertisement
اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!

تشریح : اس شعر میں علامہ محمد اقبال لکھتے ہیں کہ اے فاطمہ تمھاری قربانی نے ہمارے اندر امید کا دیا روشن کر دیا ہے۔ ہمیں اب ہمارے خوش آئند مستقبل کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ ہم تو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے تھے لیکم تم نے ہمیں ایک نئی زندگی کی راہ دکھائی ہے۔ ہمیں اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ ابھی ہمارے اس ریگستان میں بہت سے ہرن چھپے ہوئے ہیں۔ اس بات سے یہاں اقبال کی مراد یہ ہے کہ ابھی ہمارے پاس جذبہ عمل رکھنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ یوں رو آسمان پر بادل گھرے ہوئے ہوں تو اس میں بجلی لہریں لیتی ہے لیکن جب موسلادھار بارش ہو جائے اور بادل چھٹ جائیں تو بجلی نہیں چمکتی لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اگر چہ مسلمان عروج حاصل کر کے اب اپنا اقتدار کھو چکے ہیں ، ان کا بادل برس چکا ہے مگر اب بھی اس برسے ہوئے بادلوں میں فاطمہ جیسی بہت سی بجلیاں چھپی ہوئی ہیں جو گم شدہ مسافر کے لیے مشعل راہ ہیں۔

فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے

تشریح : اس شعر میں شاعر فاطمہ کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر دی۔ تمھاری اس شہادت پر اگر چہ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ وہ آنسو ہیں جو ایک معصوم لڑکی کی شہادت پر خود بخود آنکھوں سے ابل آۓ ہیں لیکن اس دکھ کے پیچھے مجھے ایک خوشی بھی ہے کہ تم نے اپنی جان دے کر اپنی قوم میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اپنے وطن کے نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھا دی ہے کہ اگر وطن کی حفاظت کے لیے جان بھی قربان کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ تمھاری شہادت نے دوسرے نوجوانوں کے دل میں بھی جذبہ جہاد پیدا کر دیا ہے۔ ان کے اندر آزادی حاصل کرنے کے جو جذبات دم توڑ رہے تھے وہ پھر سے بیدار ہوگئے ہیں۔ شاعر فاطمہ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تیرے نقش قدم پر چلتے ہوۓ ایک نہ ایک دن ہم سب آزادی حاصل کر ہی لیں گے۔

Advertisement
رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے

تشریح : اس شعر میں شاعر فاطمہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے فاطمہ! تیری شہادت ہمارے لیے آزادی کا پیغام لے کر آئی ہے۔ تمھارے وجود کا ایک ایک ذرہ ہم سے اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ ہم غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے اپنی جانوں کی پروا نہ کریں۔ جب تیری قبر سے مٹی اٹھتی ہے تو اس کا ایک ایک ذرہ ہم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرتا ہے اور ہم سے آزادی کا تقاضا کرتا ہے۔ تیری شہادت سے ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے اگر جان بھی چلی جاۓ تو آنے والی نسلیں اس قربانی کے ثمرات سے ضرور بہرہ ور ہوتی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ مجھے پوری امید ہے کہ تمھارے نقش قدم پر چل کر اب ہم آزادی ضرور حاصل کرلیں گے۔

ہے کوئی ہنگامہ تیری تُربتِ خاموش میں
پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں

تشریح : اس شعر میں شاعر فاطمہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے فاطمہ! تو نے اپنی زندگی اپنی قوم کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے تو نے اپنی جان دے دی۔ اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب تو اپنی قبر میں آرام سے سوئی ہوئی ہے۔ بظاہر تیری قبر چپ چاپ ہے لیکن اس کے اندر کوئی ہنگامہ چھپا ہوا ہے۔ زندگی میں تمھارا عمل ہمارے لیے رہنما ثابت ہوا اور اب تمھاری روح ہماری رہنما بن کر ہمیں آزادی کا سبق دے رہی ہے۔ تمھاری ہستی مسلمان قوم کو نئے ولولوں سے متعارف کروا رہی ہے۔ اب تمھاری شہادت کی قدر کرتے ہوئے ہم ضرور آزادی حاصل کرلیں گے۔

Advertisement
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۂ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نور

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ تمھاری شہادت یقیناً ہمارے لیے انقلاب کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عرش پر تیری شہادت کے خوب چرچے ہورہے ہوں گے کہ کیسے ایک لڑکی پوری قوم کو بیدار کر کے خود شہادت کا جام پی چکی ہے۔ تمھاری دیکھا دیکھی قوم کے دوسرے لوگوں میں بھی آزادی حاصل کرنے کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ تمھیں دیکھ کر اور بھی بہت سے لوگ میدان عمل میں آگئے ہیں۔ لوگ تمھیں نمونہ بنا کر تمھاری طرغ اپنی جانیں آزادی حاصل کرنے کے لیے قربان کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جذبہ عمل سے بھر پور ہیں۔ مسلمانوں کی ملی غیرت جاگ اٹھی ہے۔ اب وہ ہر حال میں آزادی حاصل کر کے رہیں گے اور یہ سب تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

جن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتَو بھی ہے

تشریح : اس نظم کا یہ آخری شعر پچھلے شعر سے جڑا ہوا ہے۔ علامہ اقبال اس شعر میں کہتے ہیں کہ فاطمہ کی شہادت کی وجہ سے لوگوں میں جذبہ حریت بیدار ہوا ہے۔ فاطمہ نے ان بزرگ ہستیوں کی قربانیوں کی لاج رکھی جنھوں نے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے رہائی دلانے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ فاطمہ ان کے نقش قدم پر چلی اور اب اس نے ایک انقلاب کی ابتدا کی ہے۔ اس انقلاب سے مسلمان قوم اثر لے رہی ہے۔ اگر فاطمہ شہادت کا جام نوش نہیں کرتی تو مسلمان قوم کی حریت ختم ہوجارہی تھی اور یہ قوم غلامی کی زندگی بسر کرتے کرتے ہی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی لیکن اب مسلمان نو جوانوں کے جذبہ جہاد میں وہ روشنی شامل ہے جو فاطمہ نے آزادی کی شمع روشن کر کے چاروں طرف بکھیری ہے۔ اب مسلمانوں کو آزادی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Advertisement

۱) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب لکھیے۔

(الف) ”برسے ہوئے بادل“ سے کون مراد ہے؟

جواب : برسے ہوئے بادل سے مراد یہاں مسلمان قوم کا وہ دور ہے جب وہ اپنے عروج پر تھی اور پھر اس نے زوال کا بھی مزہ چکھا۔

(ب) شاعر نے نظم کے پہلے شعر میں مرحومہ کو کیسے خراج تحسین پیش کیا ہے؟

جواب : شاعر نے نظم کے پہلے شعر میں مرحومہ کو مخاطب کر کہ کہا ہے کہ اے فاطمہ! تو مسلمان امت کے لیے عزت اور فخر کا باعث ہے۔ کیونکہ تو نے موت کو گلے لگا کر شہادت حاصل کی اور مسلمانوں کی لاج رکھی۔ علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ فاطمہ جیسی بچیاں ہمارے ملک اور امت کے لیے فخر کا باعث ہیں۔

(ج) فاطمہ کو راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کیوں کہا گیا ہے؟

جواب : فاطمہ کو راکھ میں دبی چنگاری اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ مسلمان قوم اپنے زوال کا دور دیکھ رہی تھی گویا اس کا عروج جل کر راکھ ہوگیا تھا اور پھر فاطمہ کے جذبہ عمل سے لوگوں میں بھی جوش پیدا ہوا جس سے یوں محسوس ہوا جیسے مسلمانوں کا جو جذبہ آزادی بجھ کر راکھ بن چکا تھا اس میں فاطمہ نے ایک چنگاری کا کام کیا اور ان کے جذبہ دوبارہ روشن ہوگئے۔

Advertisement

۳) متن کو ذہن میں رکھ کر درست جواب پر نشان ( ✔ ) لگائیں۔

(الف) نظم فاطمہ بنت عبداللہ کس شاعر کی تخلیق ہے؟
علامہ محمد اقبال ( ✔ )
حفیظ جالندھری
ظفر علی خاں
احسان دانش

(ب) یہ نظم کس مجموعہ کلام سے لی گئی ہے؟
بانگ درا
بال جبریل
ضرب کلیم
ارمغان حجاز ( ✔ )

Advertisement

(ج) فاطمہ بوقت شہادت کس فرض کی ادائیگی میں مصروف تھی؟
پانی پلانے میں ( ✔ )
مرہم پٹی کرنے میں
مریضوں کی دیکھ بھال کرنے میں
نماز پڑھنے میں

(د) شاعر نے فاطمہ کو حور کہا ہے:
صحرائی ( ✔ )
ارضی
آسمانی
جنت

Advertisement

(ہ) اپنی خاکستر سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
سر زمین طرابلس
سرزمین پاک و ہند
امت مسلمه ( ✔ )
سرزمین سیالکوٹ

۴) درج ذیل الفاظ پر اعراب لگا کر تلفظ واضح کریں:

سقّائی، خَاکستَر، نِشاْط، جَسَاْرت، ذرّه، سُپر

Advertisement

۶) نظم کا متن ذہن میں رکھ کر مصرعے مکمل کریں:

  • (الف) ذرہ ذرہ تیری (مشت) خاک کا معصوم ہے۔
  • (ب) یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے (تیغ) و سپر۔
  • (ج) ہے جسارت آفریں شوق شہادت (کس قدر)۔
  • (د) رقص تیری خاک کا کتنا (نشاط انگیز) ہے۔
  • (ہ) دیدہ انساں سے نامحرم ہے جن کی (موجِ نور)

۷) متن کو ذہن میں رکھ کر کالم (الف) کا رابطہ کالم (ب) کے الفاظ سے کریں :

تیغ :سپر
شوق :شہادت
تربت :خاموش
فضا :آسمان
گلستان :خزاں
حور :صحرائی
Advertisement
Advertisement

Advertisement