Advertisement

قبر اختر الایمان کی بہت مشہور آزاد نظم ہے۔ یہ جدید نظریات و خیالات کی حامل ہے۔ ایران کے شہر میں ایک رائیس رہتا تھا جو بیمار تھا اور بہت علاج کرانے کے بعد بھی وہ موت سے بچ نہ سکا۔ اس کے مرنے پر اس کے بیٹے کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ زار و قطار روتا رہا۔ جنازہ پر وہ بار بار کہتا تھا کہ افسوس اس کا باپ ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں نہ کوئی دوست ہے نہ ہمدم۔ اندھیری کوٹھری میں تہنا ہوئے گا۔ وہاں نہ اس کو کھانے کو ملے گا اور نہ پانی، وہاں قبر میں وہ ہر چیز کے لئے تڑپے گا۔ بیٹے کے اس بین کو کسی غریب لڑکے نے سنا تو اپنے باپ سے بولا کہ کیا یہ اس کو ہمارے گھر لے جا رہے ہیں یعنی غریب کا گھر قبر سے کم نہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement