Advertisement

"لینن خدا کے حضور میں” علامہ اقبال کی بہت مشہور نظم ہے۔ یہ نظم ان کے اشتراکیت کے بے بہترین مشال ہے۔ لینن مزدوروں کا خدا کہلاتا ہے جس نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کر کے مزدوروں اور سرمایہ داری کے بیچ کی خلا کو کسی حد تک برابر کیا ہے۔

Advertisement

لینن کمیونزم کا بانی تھا۔ کمیونسٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے۔وہ اس کے وجود سے قطعی طور پر منکر ہیں۔جو ظاہر ہ، موجود ہے ان کے لئےو یہی سب کچھ ہے۔ لیکن اقبال کی یہ نظم اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کمیونسٹ ہونے کے باوجود لینن کو خدا کے وجود کا یقین تھا۔

Advertisement

نظم کی ابتدا میں ہی وہ خدا سے کہتا ہے کہ خداوند تعالیٰ دنیا کے تمام موجودات تیرے مظاہر کی دلیل ہیں۔ دنیا کی ہر شے عیاں ہے تیری ذات امر ہے۔تو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ تیرا مقابل کوئی نہیں،تیری ذات اتنی بلند و بالا ہے کہ میری عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس عقل نے ہی مجھے بہکا دیا ہے۔ عقل میرے اور تیرے بیچ میں ایک پردہ ہے۔ تجھ کو سمجھنے کے لئے چشم بینا کی ضرورت ہے۔ ایسی بینائی جو ستاروں کے راز کو سمجھ سکے جو عقل کی تہیں ادھیڑ کر اس کی حقیقت کو جان سکے۔

لینن کہلا تا ہے کہ اے خداوند تعالیٰ یہ سب کچھ صحیح ہے تو سب کا مالک ہے۔ لیکن تو مزدور کی طرف سے کیوں غافل ہے۔ تجھے معلوم ہے مزدور کی حالت کیا ہے۔ میں تجھ کو جب مانوں گا جب میرے مزدوروں کی حالت تھیک ہوجائے گی۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement