مولانا الطاف حسین حالی اردو کے وہ بڑے شاعر ہیں۔ جنہوں نے حقیقت نگاری کو شاعری کا موضوع بنایا۔ آزاد نظموں کی بنیاد بھی حالی نے رکھی۔حالی کی یہ نظم "مٹی کا دیا ” ان کی مشہور نظم ہے۔

اس نظم میں حالی نے بتایا کہ نیکی ہر جگہ کام کرتی ہے۔ شام کے وقت جب اندھیرا ہونے لگا ہے ایک بوڑھی عورت نے مٹی کا دیا راستے میں رکھ دیا تا کہ چلنے والے مسافر اندھیرے میں ٹھوکر یں نہ کھائیں۔ عورت، مرد ، بوڑھا ، بچہ سبھی اپنی منزل پر با آسانی پہنچ جائیں۔

شاعر کہتا ہے کہ یہ دیا اور اس کی روشنی ان فانوسوں سے اچھی ہے جن کی روشنی صرف محلوں تک رہتی ہے۔ جو لوگ مال و دولت سے ،ہیرے اور جواہرات اور بڑے بڑے محل اور قلعے بناتے ہیں۔ اس سے قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے بجائے اگر کوئی اسلوب کھولتا ہے تو اس سے ساری قومیں فیض اٹھاتی ہیں۔ شاعر نے اس میں سرسید کی طرف اشارہ کیا ہے۔