Advertisement
  • نظم : میدانِ کربلا میں گرمی کی شدت
  • شاعر : میر ایس
  • ماخوذاز : کلیاتِ میر انیس

تعارفِ نظم :

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”میدانِ کربلا میں گرمی کی شدت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام میر انیس ہے۔ یہ نظم کلیاتِ میر انیس سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

میر انیس کا نام میر ببر علی اور انیس تخلص تھا۔ آپ فیض آباد (ہندوستان) کے سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انیس نے ہزاروں نوحے اور بہت سے سلام تحریر کیے۔ آپ نے "واقعہ کربلا” کو اپنے اشعار میں نہایت کمال سے منظر نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری کی صورت میں پیش کیا ہے۔

Advertisement
گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں
ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں
وہ لو کہ الحذر، وہ حرارت کہ الاماں
رن کی زمیں تو سرخ تی اور زرد آسماں
آبِ خنک کو خلق ترستی تھی خاک پر
گویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر

تشریح :

اس نظم میں شاعر کربلا کے واقعی سے پہلے گرمی کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جنگ کے روز کتنی شدت کی گرمی تھی یہ میں کیسے بیان کرسکتا ہوں۔ شاعر کہتے ہیں کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں نے اُس روز کی گرمی کی شدت کو بیان کرنے کی کوشش کی تو الفاظ کی تپش سے شمع کی طرح میری زبان جلنے لگے گی۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اُس دن اتنی دھوپ اور لُو تھی کہ اللہ کی پناہ اور صرف لُو ہی نہیں بلکہ حرارت بھی موسم میں بہت شدت کے ساتھ سرایت کر گئی تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ اُس دن زمین گرمی کی تپش کی شدت سے سرخ ہوگئی تھی اور آسماں زرد ہوگیا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن اللہ کی مخلوق پانی کو ترس رہی تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ وہاں سے پانی بھی گرمی کی شدت کے باعث بھانپ بن کر اُڑ گیا ہے۔ شاعر گرمی کی شدت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دن ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہوا سے آگ برس رہی ہے اور ہوا انسان کو سکون بخشنے کے بجائے جلا رہی ہے۔

Advertisement
وہ لُو، وہ آفتاب کی حِدَّت، وہ تاب و تَب
کالا تھا رنگ دھوپ سے دن کا مثال ِ شب
خود نہرِ عَلقَمَہ کے بھی سُوکھے ہوئے تھے لب
خیمے جو تھے حَبابوں کے تَپتے تھے سب کے سب
اُڑتی تھی خاک، خشک تھا چَشمہ حَیات کا
کَھولا ہُوا تھا دھوپ سے پانی فُرات کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کربلا کے واقعی سے پہلے گرمی کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دن بہت لُو تھی۔ اس دن سورج بہت زیادہ گرم تھا اور اس کی تپش جسم کو جھلسا دینے والی تھی۔ گرمی اس قدر شدید تھی کی دھوپ سے دن کا رنگ بھی رات کی طرح کالا ہوگیا تھا۔ نہرِ علقمہ بھی سوکھ چکی تھی اور تمام خیمے بھی بہت زیادہ گرم تھے۔ پانی کا چشمہ بھی خشک ہونے لگا تھا فرات کا پانی بھی سورج کی تپش سے کھول اٹھا تھا۔ غرض شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس دم ناقابلِ برداشت اور جسم کو جھلسا دینے والی گرمی ہورہی تھی۔

جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام
مسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقام
آہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فام
پتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خام
سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزی گیاہ سے
پانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دن اتنی گرمی تھی کہ چوپائے جھیل سے اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے بلکہ مسلسل پانی پی رہے تھے لیکن ان کی پیاس بھجنے کے قریب بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔ شاعر کہتے ہیں اس دن زمینی مخلوق کے علاوہ سمندر میں بسنے والی مچھلیاں بھی بےتاب تھیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اُس دن محسوس ہوتا تھا جیسے ہر چیز جل کر کالی ہوگئی ہو۔ آہو بھی کاہلے اور چیتے سیاہ فام محسوس ہورہے تھے۔ شاعر کہتے ہیں اس دن گرمی کی شدت سے سخت سے سخت پتھر بھی موم کی طرح پگھل گئے تھے۔ گویا کوئی بھی اس دن گرمی کی شدت سے محفوظ نہیں تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن پھولوں کی سرخی اور سبزیوں کی ہریالی بھی کہیں غائب ہوگئی تھی اور پورے منظر پر ایک عجیب سی وحشت طاری ہوگئی تھی۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ اس دن تو کنوئیں میں پانی بھی ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے صرف سائے کی چاہ میں یہاں آیا ہو۔

Advertisement
کوسَوں کسی شجر میں نہ گُل تھے نہ بَرگ وبَار
ایک ایک نَخل جل رہا تھا صورتِ چَنار
ہنستا تھا کوئی گُل نہ مہکتا تھا سَبزہ زار
کانٹا ہوئی تھی پھولوں کی ہر شاخ ِ باردار
گرمی یہ تھی کہ زِیست سےدل سب کے سرد تھے
پتَے بھی مثل ِ چہرہ ٔ مَدقُوق زرد تھے

تشریح :

اس شعر میں شاعر پودوں پر گرمی کی شدت کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دور دور تک کسی درخت پر کوئی گُل، کوئی پھل موجود نہیں تھا۔ نہ ہی وہاں کوئی سبزہ تھا اور نہ کوئی ہریالی بلکہ پھولوں کی ہر شاخ گرمی کی شدت سے سوکھ کر کانٹا بن چکی تھی۔ اس شعر کے آخر میں گرمی اور دل کے سرد ہونے کو اکٹھا کرنا بھی ہنر مندی ہے۔ اس طرح کی مثالیں ہمیں میر انیس کے پاس جا بجا ملتیں ہیں۔

شیر اُٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کَچھار سے
آہُو نہ مُنھ نکالتےتھے سبز ہزار سے
آئینہ مہر کا تھا مُکَدَّر غُبار سے
گَردُوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بُخار سے
گرمی سے مُضطَرب تھا زمانہ زمین پر
بُھن جاتا تھا جو گِرتا تھا دانہ زمین پر

تشریح :

اس نظم کے اس بند میں شاعر گرمی کے ناقابلِ حد تک بڑھنے کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جنگل بھی دھوپ اور گرمی کی وجہ سے نڈھال ہوچکے تھے اور اب اپنے کچھار سے باہر بھی نہیں آرہے تھے۔ نہ ہی کوئی اور پرندہ یا جانور نظر آرہا تھا بلکہ سب ہی اپنے اپنے گھونسلوں اور گھروں میں گرمی کی شدت سے بچنے کی سر توڑ کوشش کررہے تھے۔ اور پھر گرد کو بھی زمین کی تپش بہت محسوس ہورہی تھی یوں لگتا تھا جیسے گرد و زمین کو بخار ہوگیا ہو۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس روز اتنی گرمی تھی کہ اگر اناج کا کوئی دانہ زمین پر گر جاتا تو زمین و سورج کی تپش سے اسی وقت بُھن جاتا۔

Advertisement
گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں
انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں
منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں
تہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی لبوں پہ جاں
پانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دن گرداب پر شعلہ جوالہ کا گمان ہورہا تھا۔ حباب انگاروں اور پانی شرر فشاں کی مانند معلوم ہوتا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پانی، پانی نہیں بلکہ آگ ہو۔ گرمی کی شدت اس قدر تھی جیسے آج روزِ حساب ہو۔ شاعر اس دن کی گرمی کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دن پانی کی ایک لہر جب موج تک آتی تھی تو وہ اس قدر گرم ہوتی تھی کہ محسوس ہوتا تھا وہ گرمی کی شدت اور تپش سے پک کر کباب بن گئی ہے۔

۱) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کیجیے

(الف) میر انیس نے پہلے بند میں زبان کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟

جواب : میر انیس نے پہلے بند میں زبان کو شمع سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement

(ب) دوسرے بند میں نہر کے ’’لب‘‘ سے کیا مراد ہے؟

جواب : دوسرے بند میں نہر کے لب سے مراد اس کا ساحل ہے۔

(ج) شاعر کے بیان کے مطابق دریائے فرات کے پانی پر دھوپ کا کیا اثر ہوا؟

جواب : شاعر کے بیان کےطابق دریائے فرات کا پانی دھوپ کی تپش
کے باعث کھولا ہوا تھا۔

Advertisement

(د ) شاعری میں میر انیس کی وجہ شہرت کیا ہے؟

جواب : شاعری میں میر انیس کی شہرت ان کی مرثیہ نگاری ہے۔

(ہ) ہیئت کے اعتبار سے اس نظم ( میدان کربلا میں گرمی کی حدت) کو کیا کہیں گے؟

جواب : ہیئت کے اعتبار سے اس نظم ( میدان کربلا میں گرمی کی حدت) کو مسدس کہیں گے۔

Advertisement

۲) نظم ”میدان کربلا میں گرمی کی شدت“ کا متن مد نظر رکھ کر درست جواب پر نشان (✓) لگائیں:

(الف) ”میدان کربلا میں گرمی کی شدت“ کس شاعر کی تخلیق ہے؟
مرزا دبیر
میر انیس (✓)
میر خلیق
مولوی میر حسن

(ب) نظم ”میدان کربلا میں گرمی کی شدت“ صنف سخن کے لحاظ سے کیا ہے؟
آزاد نظم
قصیده
شہرآشوب
مرثیہ (✓)

Advertisement

(ج) شاعر گرمی کی شدت کا ذکر کرتے ہوۓ لرزاں ہے کہ:
زبان مثل شمع نہ جل اٹھے (✓)
خود اس شدت کا شکار نہ ہوجاۓ
مبالغہ نہ ہوجاۓ
بیان سے قاصر ہے

(د) رن کی زمیں سرخ تھی اور آسماں تھا:
سبز
زرد (✓)
نیلا
سرخ

(ہ) زمین پر خلق خدا کس چیز کو ترس رہی تھی؟
پانی کو
آب خنک کو (✓)
بادل کے ساۓ کو
ٹھنڈی ہوا کو

Advertisement

(و) دن کے مثال شب سیاہ ہونے کی وجہ کیا تھی؟
آفتاب کی حدت
تپش
دھوپ (✓)
لو

ز) نہنگوں پر گرمی کا کیا اثر تھا؟
پسینے چھوٹ رہی تھے
جان لبوں پر تھی (✓)
ہانپ رہے تھے
بے ہوش تھے

Advertisement

۳) ”میدان کربلا میں گرمی کی شدت“ میں جان داروں کا ذکر آیا ہے، ان کے ناموں کی فہرست تیار کیجیے۔

مچھلیاں
شیر
پتے
گُل
شجر
چیتے
کاہلے

۵) نظم کے آخری بند کی تشریح کیجیے۔

گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں
انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں
منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں
تہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی لبوں پہ جاں
پانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دن گرداب پر شعلہ جوالہ کا گمان ہورہا تھا۔ حباب انگاروں اور پانی شرر فشاں کی مانند معلوم ہوتا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پانی، پانی نہیں بلکہ آگ ہو۔ گرمی کی شدت اس قدر تھی جیسے آج روزِ حساب ہو۔ شاعر اس دن کی گرمی کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دن پانی کی ایک لہر جب موج تک آتی تھی تو وہ اس قدر گرم ہوتی تھی کہ محسوس ہوتا تھا وہ گرمی کی شدت اور تپش سے پک کر کباب بن گئی ہے۔

۶) قوسین میں دیے گئے الفاظ سے درست لفظ کا انتخاب کر کے خالی جگہ پر کیجیے۔

  • (الف) پتھر پگھل کر (موم) ہوگئے تھے۔ (راکھ، خاک ،موم)
  • (ب) مسدس کا ہر بند (چھے) مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ (دو، تین ، چھے)
  • (ج) گرمی کی شدت سے پتوں کا رنگ (زرد) ہو گیا۔ (زرد، سیاه، سرخ)
  • (د) شاعر نے درخت کے جلنے کو (چنار) سے تشبیہ دی ہے۔ (کوئلے لکڑی، چنار)
  • (ہ) (گرمی) سے سورج کا چہرہ دھندلا گیا تھا۔(غبار،بخار، گرمی)

۹) درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے :

روز :کبھی کبھار
آفتاب :چاند
کانٹا :پھول
حیات :موت
سیاه :سفید
سبزہ زار :صحرا

۱۰) نظم کو غور سے پڑھیں اور ہر بند کے قافیے لکھیں:

بیاں زباں الاماں آسماں
تب شب لب سب
شام مقام فام خام
بار چنار زار دار
گماں فشاں زباں جاں

Advertisement
Advertisement
Advertisement

Advertisement