Advertisement

ہمارا زمانہ بھی عجیب تھا۔ انٹر میڈیٹ میں 60 فی صد نمبرز آنے پر ، محض چند ساعتوں میں ، پورے محلے میں خبر پھیل جاتی ، کہ فلاں کے بیٹے یا بیٹی نے 60 فی صد نمبرز لیے ہیں ۔ 70 فی صد نمبرز لینے پر گھر والوں کا سینہ چوڑا ہو جاتا ، کہ ہماری اولاد کافی ذہین ہے ۔ اور اگر کوئی 80 فی صد نمبرز لینے میں کامیاب ہو جاتا ، تو اسے پورے گاؤں کا ذہین طرین اور فطین بچہ یا بچی سمجھ کر ، اس کے گیت گائے جاتے ۔ گھر والے اس کے قصیدے سنتے سناتے نہیں تھکتے تھے ۔ یہ خبر جان بوجھ کر اپنی برادری اور رشتہ داروں میں راتوں رات پھیلا دی جاتی ، کہ فلاں کے بیٹے یا بیٹی نے 80 فی صد نمبرز لیے ہیں ۔ اس کے عوض اسے بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے ، کوئی چھوٹے موٹے تحفے تحائف بھی عنایت کیے جاتے۔

Advertisement

اب زمانہ بدل چکا ہے ۔ ایک دہائی سے ہم سب اس امر کا مشاہدہ کرتے آئے ہیں ، کہ 1100 میں سے 1050 یا اس سے کچھ زائد نمبرز لینے والے طلباء و طالبات کی ، بورڈ میں کوئی یقینی پوزیشن آجاتی تھی ۔ اس ساری صورتحال میں ایک بورڈ دوسرے بورڈ کو مات دینے کے لیے ، کسی ایک آدھ طالب علم کو ایک اضافی نمبر دے کر ، اپنے رتبے اور وقار کو نمایاں کر لیتا ۔ ایسے میں ہر بورڈ کے پاس ایک اختیار باقی بچ جاتا رہا ہے ، کہ وہ جب مرضی ایک آدھ نمبر زیادہ دے کر کسی بھی بورڈ کو شکست دے سکتا تھا ۔ لیکن اب وہ اختیار بھی باقی نہیں بچا ۔ 2021ء کے نتائج میں 1100 میں سے 1100 نمبرز دے کر بورڈز نے اضافی نمبرز دینے کے ریکارڈز توڑ دیے۔

Advertisement

اب 70 سے زائد طلباء ایسے ہیں جو پورے پورے نمبرز لینے کے بعد ، اس سوچ میں گم ہیں، کہ ان 70 میں سے ٹاپر کون ہے ۔ راقم کی نظر میں ان 70 سے زائد لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ کل کلاں کو ان میں سے ایک بھی” افلاطون ” اگر کسی بڑی کلاس کے کسی بڑے پیپر میں نمایاں نمبرز نہ لے سکا ، یا فیل ہو گیا ، تو اس پر سارے راز افشاں ہو جائیں گے ۔ ہمارا تعلیمی نظام رٹے باز طوطے پیدا کر رہا ہے ۔ مستقبل میں جہاں بھی ان کی چونچ میں کوئی چیز اٹک گئی ، یہ بولنا بھول جائیں گے ۔ ہم انہیں دو جمع دو ، چار تو سکھا رہے ہیں ، لیکن انہیں اس قابل نہیں بنا رہے کہ وہ دو جمع دو ، پانچ بھی کر دکھائیں۔

Advertisement

ان کی مقداری ذہانت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ لیکن معیاری ذہانت میں وہ بہت پیچھے جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ کچھ ڈیپارٹمنٹس میں نوکری مقداری ذہانت یعنی نمبروں کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ کوئی استاد بنے گا ، کوئی ڈاکٹر بنے گا ، کوئی انجینئر بنے گا ، کوئی وکیل بنے گا ، کوئی کسی بیلٹ فورس کا حصہ بنے گا ۔ لیکن کوئی اقبال بنتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ کوئی آزاد یا حالی بنتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ کوئی ڈاکٹر قدیر یا عبدالسلام بنتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے ہم طلباء کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا چاہ رہے ہیں ۔ عجیب فارمولے کے تحت مارکس کو تقسیم کیا گیا ہے ۔ سننے میں آ رہا ہے کہ ، ایبٹ آباد میں کسی کو 1100 میں سے 1150 نمبرز بھی دے دیے گئے تھے ۔ پھر اچانک اس کا رزلٹ ہٹا دیا گیا ۔ بنیادی طور پر جن لوگوں کے پارٹ 1 میں جتنے نمبرز تھے ، انہیں پارٹ 2 میں اتنے ہی نمبرز دینے کے بعد ، مزید 5 فی صد نمبرز اضافی دیے گئے ۔ ریاضی کے مقابل اردو کو رکھا گیا تھا ۔ جس کے ریاضی میں 100 نمبرز آئے ، اسے اردو میں بھی 100 ہی نمبرز دے دیے گئے ۔ اردو کا اسٹوڈنٹ ہونے کے ناطے ، راقم حیران بھی ہے اور خوش بھی ۔ کہ شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے ، کہ اردو میں بھی 100 میں سے 100 نمبرز دیے گئے ہوں۔

دست بستہ گزارش ہے کہ ذہانت کو ماپنے کے مقداری پیمانے توڑ دیے جائیں ، اس کام کے لیے معیاری پیمانے ایجاد کر لیے جائیں ۔ تاکہ کسی کی ذہانت اس کی اپنی نظروں میں بھی مشکوک نہ رہے ۔ اور کل کلاں کو کسی طوطے کی چونچ میں کوئی چیز نہ اٹکے ، جو اسے بولنے سے روکے یا محروم کر دے۔

Advertisement

ن ۔ م راشد کی نظم ” اندھا کباڑی ” یاد آ رہی ہے۔
اس میں وہ گلیوں میں خواب بیچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ خواب بیچنے کے لیے وہ آواز لگاتے ہیں کہ ، ” خواب لے لو خواب ” ۔ تازہ ترین صورتحال بھی بالکل ویسی ہی ہے ۔ جس میں آواز لگائی جا رہی ہے کہ ، نمبر لے لو نمبر ۔ نمبروں کی اس نظم کے ، لکھنے والے کا پتا نہیں چل رہا ۔ لیکن نظم کا عنوان بہت زبردست ہے ۔ وہ ہے ” نمبر لے لو نمبر”۔

تحریر امتیاز احمد، کالم نویس، افسانہ نگار
[email protected]
نمبر لے لو نمبر 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement