Advertisement

حالات زندگی

نور شاہ کی پیدائش سری نگر کے علاقہ ڈلگیٹ میں 9 جولائی 1936 میں ہوئی۔بی اے تک تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازم ہو گئے۔ ملازمت کے دوران آپ کئی عہدوں پر فائز رہے اور جموں کشمیر کے انرجی ڈویلپمنٹ ایجنسی میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔

Advertisement

ادبی خدمات

نورشاہ کی ادبی کی زندگی کا آغاز 22 سال کی عمر میں ہوا۔ ان کی پہلی کہانی ‘نلنی’ کے عنوان سے دہلی سے شائع ہونے والے ماہنامہ’ شمع ‘کے شمارے میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد آپ کی کہانیاں مختلف جرائد میں چھپنے لگیں۔

Advertisement

نورشاہ ریاست جموں و کشمیر کے ایک نامور اور معتبر افسانہ نگار ہیں۔ اردو زبان کے موجودہ ادبی منظر نامے میں آپ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، قدروں کی شکست و ریخت، آدمی اور آدمی کے درمیان رشتے اور انسان کی نفسیاتی کشمکش کو بھرپور انداز میں پیش کرتے ہیں۔ نور شاہ کے افسانے عام زندگی سے لیے گئے پلاٹ پر مبنی ہیں۔

Advertisement

نورشاہ کے شائع شدہ افسانوں میں ”بے گھاٹ کی ناؤ، ویرانے کے پھول، من کا آنگن، اداس اداس، ایک رات کی ملکہ، گلے پتھروں کی مہک، بے ثمر سچ، اور آسمان پھول اور لہو“ قابل ذکر ہیں۔ نور شاہ نے ایک ناول بھی لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 60 سے زیادہ ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان ڈراموں میں اکثر ریڈیو کشمیر جموں اور سرینگر سے نشر ہوئے۔آپ کے مشہور ترین ناولوں میں ”نیلی جھیل کالے سائے“ اور ”پائل کے زخم“ ہیں۔ اس کے علاوہ ”بند کمرے کی کھڑکی“ اور ” کہاں گئے یہ لوگ“ بھی اہم تصانیف ہیں۔

نور شاہ ایک منجھے ہوئے ادیب ہیں۔ ان کی تصانیف فنی اعتبار سے خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔ الفاظ کی ادائیگی کا ان کا ایک مخصوص انداز ہے کہانی کو بننے میں آپ مہارت رکھتے ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement