Advertisement

نکات الشعراء میر تقی میر کا قدیم ترین تزکرہ ہے جو اردو تذکرہ نگاری میں تاریخی اور تنقیدی اہمیت کا حامل ہے۔یہ 1752ء میں احمد شاہ کے عہد میں لکھا گیا۔ اس میں ہم عصر شعراء کے متعلق درج ذیل باتیں اختصار کے باوجود بھی اہمیت کی حامل ہیں۔

Advertisement

تذکرہ” نکات الشعراء”اپنے عہد کے مجموعی رحجانات کا پابند ہے۔میر کے تزکرے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ میر نے شعراء کی تمام روایتوں کو الہامی سمجھ کر قبول نہیں کیا بلکہ ان پر تنقیدی نظرڈالی ہے۔یہ تذکرہ دنیائے تنقید میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔میر نے خود اس تذکرے کو اردو کا پہلا تذکرہ مانا ہے۔

Advertisement

گارسان تاسی کا کیا خیال ہے کہ نکات الشعراء سے پیشتر کئی تز کرے موجود تھے۔ تزکرہ امام الدین،تزکرہ خان آرزو، تزکرہ سودا مگر اس وقت آرزو،سودا، اور امام الدین کے تذکرے موجود نہیں تھے جس کے سبب میر کے اس تذکرے کو تقرم حاصل ہے۔

Advertisement

میر کے نکات الشعراء کی تنقیدی نوعیت پر سخت اعتراضات کے گئے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ قائم، یقین حشمت وغیرہ کے تذکروں میں کچھ ز ہرنا کی ملتی ہے۔مگر بقول ڈاکٹر عبداللہ تزکرہ "میر تقی میر کی امتیازی خصوصیت کی یہی تلخ تنقید ہے۔’میر کی خود بینی اور انتہاپسندی نے بہت تنقیدوں کو نقصان پہنچایا ہے”

میر نے اس تذکرہ میں 160 شعراء کے قلمی چہرے پیش کیے ہیں۔ لیکن ان کا رنگارنگ صورتوں میں ان کی شخصیت کا عکس موجود ہے۔ان کے بیانات شگفتگی اور خشک تلخی ہیں۔” نکات الشعراء”سے اس زمانے کے عرسوں،میلوں،مراقبوں،مشاعروں اور ہم عصر شعراء کے بارے میں بھی سیر حاصل تفصیل ملتی ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی عکس ملتا ہے کہ ہندو مسلمانوں میں بڑا اتحاد میل جول تھا۔ لوگ اہل قلم اور اہل سیف تھے درویشی اور شاعری دوش بدوش تھی۔

Advertisement

نکا ت الشعراء سے میر کا نظریہ شاعری بھی واضح ہوتا ہے۔وہ شاعری کو گل و بلبل میں محدود نہیں کرنا چاہتے تھے۔وہ ایہام کے سخت مخالف تھے۔ ان کی زبان صاف اور سادہ مگر پر اثر ہے۔ ان کی رائے بے لاگ ہے اور بے باک ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement