Advertisement

نگار روئے صنم کو دکھا کے چھوڑ دیا
پرانی یاد کو پھر سے جگا کے چھوڑ دیا
ہمارے لوگ ہمیں بادہ خوار کہتے ہیں
انہوں نے جام محبت پلا کے چھوڑ دیا
ہمارے خواب کی تعبیر تو بتا دو کوئی
کسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیا
تمہارے نام کے صدقے پناہ مانگی تھی
عدو کو ہم نے بھی پھر مسکرا کے چھوڑ دیا
تمہارے پیار میں کیا کیا نہیں کیا ہم نے
خیالی تاج محل بھی بنا کے چھوڑ دیا
ہماری آنکھ میں آنسوں کبھی نہ آئے تھے
تمہاری یاد نے ہم کو رلا کے چھوڑ دیا
تمہاری چشم محبت سے کیا گرے فیضان
زمانے بھر نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا
Advertisement

Advertisement