غزل

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا
جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے
لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا
کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد
خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا
دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے
فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا
بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر
نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا
پیام حسن پیام جنوں پیام فنا
تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا
نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے
دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا
وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی
جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا
فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

تشریح

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

غزل کے مطلعے میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی نازبھری نگاہیں جو کبھی اٹھنا گوارا نہیں کرتیں آج ایسے ایسے راز و نیاز کے پردے اٹھا گئیں ہیں کہ اہل محبت یعنی عشاق کو بھی حباب آگیا ہے۔ محبوب نے محبت سے جس طرح پردے اٹھائے ہیں انہیں دیکھ کر اہل محبت تک کو حیا آگئی ہے۔

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ دنیا میں محض یہ افواہ تھی کہ تو جلوہ دکھائے گا۔ تو نے جلوہ دیکھا نہیں تھا۔محض ایک اڑتی سی خبر تھی کہ تیرا جلوہ دکھائی دے گا۔ اس خوشی میں کیسے کیسے دیر و حرم یعنی مندر و مسجد کے چراغ جھلملا اٹھے ہیں۔شاعر نے صنعتِ حسن تعلیل سے کام لیا ہےکہ مندر و مسجد میں چراغ تو ویسے ہی جلتے ہیں لیکن شاعر نے ایک دوسرا شاعرا نہ سبب بتایا ہے کہ محبوب کے جلوہ دکھانے کی خبر سے خوشی کے چراغ جل اٹھے ہیں۔

نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے
لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

اس شعر میں شاعر نرگس مے گوں استعارتاً محبوب کی سُرخ آنکھوں کے لئے کہتا ہے۔کیونکہ محبوب کی آنکھیں شراب کے رنگ یعنی سرخ اور نرگسی ہیں اس لیے شاعر نے ان کو نرگس مے گوں کہا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ایسی خوبوصورت،مست اور جادو بھری آنکھوں کے قربان جاؤں کہ آج لبوں تک آتے آتے پیالے بھی تھر تھرا گئے ہیں گویا کانپ اٹھے ہیں۔

کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد
خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی ناز بھری، مست اور جادو بھری چال نے نہ جانے کیسے کیسے فتنے اور فساد اٹھا رکھے ہیں کہ کہیں چراغ، پروانے کو جلانے کا سبب بنتا ہے تو کہیں گُل کے ہاتھوں بُلبُل آہ و فغاں کر رہا ہے۔ کہیں اسی چال نے اپنے عشاق کی حالت خراب کی ہے اور وہ دل برباد تڑپ رہے ہیں اور آہیں بھر رہے ہیں۔ اور یہ سب ان کی ناز پرور چال کے سبب سے ہے۔

دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے
فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

شاعر نے محبوب کی نگاہ کے لیے استعارتاً برقِ تجلّی کالفظ استعمال کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ برق تجلی سے یعنی محبوب کی نگاہوں سے دوچار رہنے والوں نے ان مست آنکھوں سے نہ جانے کیسے کیسے فریب کھائے ہیں کہ ان کے دھوکے میں آکر انھوں نے خود کو ان کا دیوانہ بنالیا اور اپنی حالت قابل رحم بنا لی ہے۔

پیام حسن پیام جنوں پیام فنا
تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

شاعر کہتا ہے اے محبوب تیری نگاہیں کیسے کیسے فسانے سُناتی ہیں اور کیا کیا درس دیتی ہیں کہ کہیں حسن پرستی کا پیام ملتا ہے تو کہیں دیوانگی کا سبق اور یہی آنکھیں وفا پرستی کا درس بھی دیے جا رہی ہیں۔

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی
جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

محبوب کی نگاہ کو برق سے تشبیہ دیتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ وہ نیم و برق سی نگاہ کی ایک ذرا جھلک نے ہی دل اور جگر کے نہاں زخموں کا مسکرانا زخموں کا تازہ ہونا ہوتا ہے۔گویا زحم تازہ ہو اٹھے ہیں اور درد میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔

فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

شاعر کہتا ہے وفا کی راہ کچھ ایسی آسان نہیں ہے کہ ہر کوئی اس پر چل سکے۔ یہ بہت مشکل راہ ہوتی ہے‌ جہاں بڑے بڑوں کے قدموں ڈگمگا جاتے ہیں۔لیکن اے فراقؔ تم اس وفا کی راہ میں ثابت قدم رہے اور تمہاری اس سبک روی نے وفا کی اس پر خطر راہ کو طے کر لیا ہے۔ورنہ اس راہ میں بڑے بڑوں کے حوصلے جواب دے چکے ہیں۔بڑے بڑوں کے قدم لڑکھڑا گے ہیں۔

Advertisements