Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام علامہ اقبال ہے۔ یہ غزل بالِ جبریل سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر : 

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

Advertisement

(غزل نمبر ۲)

شعر نمبر ۱ :

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دولت و شہرت کو دیتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد پیسہ بنانا، طاقت پانا اور دنیا میں بلند مرتبہ پانا ہوتا ہے۔ جبکہ انسان کی زندگی میں یہ تخت و تاج یہ شان شوکت اور طاقت کسی کام کی نہیں ہے یہ سب تو فانی ہیں۔ انسان کی زندگی کا اصل مقصد تو اللہ سے تعلق قائم کرنا اور اس کا قرب پانا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جو مزہ کسی ایسے شخص کی صحبت میں ہے جس سے صداقت اور حق کی خوشبو آتی ہو، یہ باتیں آپ کو رب کائنات سے روشناس کرواتی ہوں۔ وہ مزہ کسی بادشاہ کے دربار میں ہے نہ کسی طاقتور لشکر کے درمیان ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۲ :

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال نے دنیا کو صنم کدہ کہا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ دنیا صنم کدہ بن چکی ہے جہاں ہر کوئی اپنے اپنے محبوب کی پرستش کرتا نظر آتا ہے۔ پہلے کے زمانے میں تو لوگ مٹی کے پتلے بنا کر ان کی پرستش کیا کرتے تھے مگر اب ہر ایک نے اپنا ایک محبوب بنا لیا ہے۔ کسی کو دولت کی پرستش کرنی ہے ، کسی کو نفس کی ، کسی کو شہرت کی، تو کسی کو طاقت کی۔
اقبال کا یہ شعر تلمیح ہے اس شعر میں خلیل یعنی ابراھیم علیہ السلام کےخانہ کعبہ میں موجود بت کو توڑنے کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو توڑا تھا ویسے ہی آج بھی کسی ان بتوں کو پاش کرنا ہوگا۔

شعر نمبر ۳ :

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال انسان سے مخاطب ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو بہت سی چیزیں اسے بنا محنت اور کوشش کے خود مل جاتی ہیں۔ نام ، مذہب ، دولت ، آسائشات ، مکان ، جائداد وغیرہ اور ان کے اچھے اور اہم ہونے میں اس انسان کا کوئی کمال نہیں ہوتا۔ مگر انسان کی زندگی یہ نہیں ہے۔ اس کی دنیا یہ نہیں ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کی دنیا تو وہ ہے جو وہ خود محنت کرکے بنائے گا اس کے لیے وہی سب سے اچھا ہے جس کو اس نے اپنے زور بازوؤں سے حاصل کیا ہے۔ اور انسان کی پہچان بھی وہی جو اس نے خود بنائی ہے جس کے اچھے برے ہونے کا ذمہ دار وہ ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۴ :

مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا
وہ مشت خاک ابھی آوارگان راہ میں ہے

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال نے انسانوں کو ان کے اشرف المخلوقات ہونے کا احساس دلایا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان وہ مخلوق ہے جیسے اللہ سبحان تعالیٰ نے دنیا کی تمام مخلوقات سے بلند درجہ دیا ہے۔ انسان کا مقام چاند تاروں سے بھی بلند ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان اپنے اس مرتبے سے ناواقف ہوتا ہے۔ اور مٹی کا بنا انسان اپنی زندگی کے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔ سیدھی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ یعنی دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کا مقام وہ نہیں ہے جو مقام اس نے قائم کیا ہوا۔

شعر نمبر ۵ :

خبر ملی ہے خدایان بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں ہے

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال نے اپنی زندگی کا تجربہ بیان کیا ہے۔ اقبال چونکہ یورپی ممالک کا احوال دیکھ چکے تھے کہ کس طرح وہ قومیں برباد ہوگئی جنہوں نے یورپ کی اندھی تقلید کی۔ اقبال نے کئی قوموں کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور وہ جانتے تھے کہ مغربی ممالک اور ان کے اطوار ایک بڑے طوفان کی مانند ہیں جو جہاں بھی جائیں گے وہاں تباہی برپا کردیں گے۔ کیونکہ کی ان کے دلوں میں دولت کی ہوس اور خود پرستی سوا کچھ نہیں ہے۔ اس شعر میں دراصل علامہ اقبال اپنی قوم کو مغرب کی اندھی تقلید سے روکنا چاہتے ہیں اور انہیں بربادی کی راہ سے بچنے کی تاکید کرنا چاہتے ہیں۔

Advertisement

شعر نمبر ۶ :

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپنا
جہان تازہ مری آہ صبح گاہ میں ہے

تشریح :اس شعر میں علامہ اقبال نے انسان جو سحر خیز کی طرف راغب کیا ہے۔ اقبال کی کئی اشعار سحر خیزی اور صبح کے نور کو بیان کرتے ہیں۔ ان اشعار کا مہفوم یہ ہے کہ انسان کو علی الصبح بیداری کی عادت ہو اور وہ اپنے رب کے حضور حاضری دے۔ اللہ کے نیک متقی بندے بھی صبح کی عبادات کا خصوصی اہتمام کیا کرتے ہیں۔ اس شعر میں علامہ اقبال نے اللہ کی طرف متوجہ کروایا ہے کہ انسان صبح بیدار ہو اللہ کی عبادت کرے کیونکہ جب انسان اللہ سے کچھ مانگتا ہے تو اللہ اسے دوگنا عطا کرتا ہے۔ صبح کے وقت فرشتے بحکم خدا رزق کی تقسیم کرتے ہیں۔

شعر نمبر ۷ :

مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب
نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے

تشریح :علامہ اقبال نے اس شعر میں دو طرح کے تعلیمی نظام کا ذکر کیا ہے ایک انگریزی جوکہ دنیا داری سیکھاتا ہے جبکہ دوسرا مدارس میں جو کہ دین کی طرف لاتا ہے۔ مگر اقبال کا منانا ہے کہ دنیا کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں خواہ وہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو وہ مزہ نہیں ہے جو کہ میرے تصوف میں ہے اور نہ ہی کسی مدرسے میں سکون ہے جو کہ اللہ کا قرب عطا کردے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میرا تصوف، میری خودی ،میرا فلسفہ خالص مشروب ہیں اور اگر ہم اس کی گہرائی میں اتر سکیں اور اس کو سمجھ سکیں تو یہ سب ہماری اخلاقی تربیت کے لیے لازمی امر ہیں۔

Advertisement

۱) علامہ اقبال کی پہلی غزل میں کون سے الفاظ قافیے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور یہ کہ اس غزل میں ردیف کیوں نہیں آئی ؟ اپنے استاد سے معلوم کیجیے۔

جواب : خود آگاہی، شہنشاہی ، سحرگاہی، راہی، کوتاہی ، اسداللہی ، روباہی وغیرہ قافیے ہیں۔ اس غزل میں ردیف اس لیے نہیں آئی کہ علامہ اقبال نے ردیف لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔شاعر بعض اوقات ردیف کے بغیر ہی عمدہ غزل کہہ لیتے ہیں۔

۲) دوسری غزل میں قافیے اور ردیف کی نشان دہی کیجیے؟

جواب : دوسری غزل کی ردیف میں ہے۔
قوافی : سپاه، بارگاہ، لا الہ، نگاہ ، راه ، پناه گاه ، خانقاہ۔

Advertisement

۳) علامہ اقبال کی پہلی غزل کے مطلعے کے حوالے سے بتایئے کہ وہ کون سا جذبہ ہے جو غلاموں پر اسرار شہنشاہی کھول دیتا ہے؟ تاریخ کے اوراق سے کوئی مثال دیجیے۔

جواب : وہ جذبہ عشق ہے۔ اسلامی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مثلا قطب الدین ایبک یا غیاث الدین بلبن (یہ دونوں خاندان غلاماں کے نامور بادشاہ تھے ) یہ دونوں غلام تھے مگر جب جذبۂ عشق نے ان کی صلاحیتوں کو اس قدر صیقل کر دیا کہ اپنی غیر معمولی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر دونوں بادشاہت کے مقام پر پہنچے اور برسوں نہایت کامیاب حکومت کی۔ عشق میں خودی ،فقر ، قناعت، جرات ،شجاعت، حکمت، تدبر وغیرہ سب کچھ شامل تھے اور یہ سب اوصاف، جذبہ عشق سے سرشارلوگوں میں موجود ہوتے ہیں۔

۴) پہلی غزل کے دوسرے شعر کے حوالے سے چند سطروں میں واضح کیجیے کہ علامہ اقبال کے نزدیک آہ سحری گاہی‘‘ کی کیا اہمیت ہے؟

جواب : آہ سحرگاہی ، وہ فریاد یا دعا ہے جو نماز سحری (تہجد) کے بعد ، خدا کے حضور پیش کی جاتی ہے۔ اقبال اسے اس لیے اہم قرار دیتے ہیں کہ قرآن حکیم میں تہجد کی بیداری اور نوافل کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالی اور انسان کے درمیان حصول قرب کا ایک مؤثر ذریعہ ہوتا ہے۔

Advertisement

۵) علامہ اقبال نے پہلی غزل کے چوتھے شعر میں’’طاہر لاہوتی“ کی اصطلاح کس کے لیے استعمال کی ہے۔ اس کا مفہوم کیا ہے؟

جواب : ” طاہر لاہوتی‘‘ کا معنی ہے روحانی ترقی کے بلند ترین مقام پر اڑنے والا پرندہ۔ اقبال نے یہ اصطلاح مسلم نوجوان کے لیے استعمال کی ہے۔ دوسرے مقامات پر علامہ نے انہیں شاہین سے مشابہ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلم نو جوان بہت سی اخلاقی خوبیوں کا حامل ہے اور وہ عام نو جوانوں سے بہت مختلف ہے اس سے ہماری بہت سی تو قعات وابستہ ہیں۔

۶) بوۓ اسداللہی سے کیا مراد ہے؟ ایک مرد فقیر یہ خوبی اختیار کر کے دارا و سکندر پہ کیسے فوقیت حاصل کر لیتا ہے؟

جواب : بوئے اسداللہی میں اشارہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ہے۔ اسد اللہ آپ کا لقب تھا جو ان کی بہادری اور غیر معمولی شجاعت کے سبب انھیں دیا گیا تھا۔ اس مراد ہے جرات مندی۔ گویا اگر کوئی مرد فقیر ، اپنے اندر حضرت علی کی جیسی ایمانی جرات پیدا کر لے تو وہ دارا و سکندر جیسے عظیم بادشاہوں پر بھی غلبہ کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ دارا و سکندر ، اس ایمانی جذبے سے خالی ہوں گے۔ جو حضرت علی کا بنیادی وصف تھا۔

Advertisement

۷) پہلی غزل کے آخری شعر کے حوالے سے بتائے کہ

الف : جواں مردوں کا آئین کیا ہے؟

جواب: حق گوئی و بے باکی۔

ب : اللہ کے شیر کون ہوتے ہیں؟

جواب: جو چالاکی ، مکاری یا بزدلی کا رویہ نہیں اپناتے بلکہ بہادری شجاعت ، خودداری و قناعت کے راستے پر گامزن رہتے ہیں۔

Advertisement

۸ ) علامہ اقبال کی دوسری غزل کے دوسرے شعر کے حوالے سے بتایئے کہ لاالہ میں کون سا نکتہ پوشیدہ ہے؟

جواب : وہ نکتہ یہ ہے کہ لا الہ ( کلمہ طیبہ پڑھتے ہی انسان پر منکشف ہوتا ہے کہ پوری دنیا ایک بہت بڑا بت خانہ ہے) جہاں لوگ طرح طرح کے بتوں کی پوجا کر رہے ہیں اور حضرت ابراہیم کا سا مرد حق ہی اس صنم کدے کو ڈھاسکتا ہے۔

Advertisement

۹) دوسری غزل کے چوتھے شعر کے حوالے سے بتائیے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا مقام مہ وستارہ سے آگے ہے؟

جواب : حضرت انسان، جو ہے تو اشرف مخلوق مگر ابھی تک وہ دنیا کی مادہ پرستی ، مصلحت کوشی اور معمولی فوائد کی بھول بھلیوں میں الجھا ہوا ہے۔ حالاں کہ وو شرف انسانیت کا راستہ اختیار کر لے تو مہ کامل بن سکتا ہے۔

۱۰) دوسری غزل کے پانچویں شعر کے حوالے سے بتائے خدایان بحروبر سے کیا مراد ہے؟

جواب : خدایان بحر و بر سے مراد فطرت کے قوانین ہیں جن کی رو سے فرنگ کا زوال شروع ہو چکا ہے۔

Advertisement

۱۲) درج ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

رزق :ہمیں اپنا رزق اللہ سے مانگنا چاہیے
پرواز : علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مردِ مجاہد کا کام اونچی پرواز کرنا ہے
آئین : ہمیں آئین کی پاسداری کرنی چاہیے
بارگاہ : ہمیں اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے
نکتہ : ہر انسان کا نکتہ نظر مختلف ہوتا ہے
مقام : انسان کا مقام ہر چیز سے زیادہ ہے
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement