Advertisement

شاعر : فیض احمد فیض۔

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام فیض احمد فیض ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوئے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی۔ جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے۔ ان کا عشق درد مندی میں ڈھل کر انسان دوستی کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر یہ انسان دوستی اک بہتر دنیا کا خواب بن کر ابھرتی ہے۔ان کے الفاظ اور استعاروں میں اچھوتی دلکشی،سرشاری اور پہلوداری ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فیض نے شاعری کا اک نیا دبستاں قائم کیا۔

Advertisement
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر عاشق کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عاشق محبوب کی ایک ملاقات کے لئے کتنا تردد کرتا ہے۔ عاشق اس کی دید کےلئے اس کے کوچہ میں بار بار جاتا ہے اور رسوا ہو کر نکالا جاتا ہے۔ لوگ بھی اسے اب اچھی نظر سے نہیں دیکھتے اور اس کے آتے ہی دیوانے پاگل اور عاشق کے القابات سے پکارتے ہیں۔ عاشق محبوب کے عشق کے لئے لوگوں کی نظر میں رسوا ہوکررہ گیا ہے۔محبوب کی بے رخی اور نامناسب سلوک سے عاشق کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ اب مزید مجھ پر ستم نہ کرو ۔ اب مجھ پر ظلم کرنے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں مجھے اگر تم مٹانا چاہتے ہو تو میں پہلے ہی مٹ چکا ہوں۔

Advertisement
مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب جب کہ میرے محبوب کا عاشق ابتر حالت میں ہے تو وہ کہتا ہے کہ میری حالت اب بری ہے۔ وہ یہاں رقیب کو مخاطب کرتے ہیں کہ میرا عشق اسے ہمیشہ سے کھٹکتا تھا مگر اب آج میرے لئے کوئی تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں میرے رقیب کو میری ابتر حالت کی اطلاع دو تاکہ وہ خوشی منا سکے۔ اس کے راستے میں حائل دراڑ اب ہیں رہی۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ میرے درد کی اب کوئی دوا نہیں اسلئے میری خبر گیری کو مت آنا۔ تمہارا وہ سحر لوگوں پر مسحر رہے اس لئے میری چارہ گری کو مت آنا میری تو اب ویسے بھی جان جانےکو ہے تمہارے حسن کا بھرم قائم رہے۔

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب کوئی سچا عاشق کسی چیز کی طلب کرنے لگے تو اس کے بہت سے دشمن بن جاتے ہیں۔ ہر جگہ ہر دور میں عاشق کو محبوب و رقیب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بھی شاعر عاشق کی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ جب دنیا نے عاشق کی مخالفت کی اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے تو بھی عاشق پس پا نہیں ہوا۔ عاشق اپنے معملات میں سچا ہے اس نے اپنی راہ کسی بھی خوف میں مبتلا ہو کر نہیں چھوڑی۔عاشق اپنے اقرباء سے کہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے کفن کو میرے ماتھے سے زرا ہٹاکر رکھنا میرے ماتھے پر آخری دم تک عشق کا غرور باقی رہے گا جو میرے دشمنوں کے لئے بے چین کرنے والی بات ہوگی۔

Advertisement
ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ عاشق اپنے معاملات میں سچا ہے وہ اس راہ سے ہرگز نہیں ہٹنے والا۔ اس کی محبت و عقیدت بے لوث ہے مگر وہ نصیب کا مارا ہے۔ اسے اس کی محبت کے جواب میں وہ محبت نہیں ملتی جو اسے ملنی چاہئے۔ بلکہ اس پر ستم یہ کہ محبوب اس سے اجتناب کرتا ہے اس سے دور رہتا ہے۔ محبوب اس پر توجہ نہیں دیتا الٹا اس سے بے رخی برتا ہے۔ محبوب سنگ دل ہے جو عاشق کی ہستی مٹادینا چاہتا ہے۔عاشق لاکھ کوشش کی کرتا ہے کہ اس کے دل کی بات محبوب تک پہنچے مگر محبوب اس کی کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتا۔

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب ایک سچا عاشق راہ محبت میں نکلتا ہے تو وہ کسی کا خیال نہیں کرتا سوائے اپنے محبوب کے۔ وہ اس راہ میں دنیا سے منہ موڑ لیتاہے۔ اسے کسی اور کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ دنیا کی نظر میں دیوانے کی حیثیت میں گھومتا ہے اور کوچہ یار میں بار بار جاتا ہے۔ اسی راہ میں عاشق کچھ ایسے کام کرتا ہے جو پہلے نہ کبھی کسی نے کیے ہوں نہ کبھی سنے ہوں۔ وہ اس راہ میں اپنی ہستی کو برباد کرتا ہے اور لوگوں میں یہ بات نہایت غیر معمولی ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس راہ میں میں نے ظلم و ستم سہ کر وہ حجت تمام کر دی جو برسوں یاد رکھی جائے گی۔

Advertisement
Advertisement