Advertisement

غزل

وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
تم سے دشمن کی مبارک باد کیا
کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی
آشیاں اپنا ہوا برباد کیا
ہیں اسیر اس کے جو ہے اپنا اسیر
ہم نے سمجھے صید کیا صیاد کیا
نشۂ الفت سے بھولے یار کو
سچ ہے ایسی بے خودی میں یاد کیا
جب مجھے رنج دل آزاری نہ ہو
بے وفا پھر حاصل بیداد کیا
کیا کروں اﷲ سب ہیں بے اثر
ولولہ کیا، نالہ کیا، فریاد کیا
ان نصیبوں پر کیا اختر شناس
آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا
گر بہائے خون عاشق ہے وصال
انتقام زحمت جلاد کیا
بت کدہ جنت ہے، چلیے بے ہراس
لب پہ مومنؔ ہرچہ بادا باد کیا

تشریح

پہلا شعر

وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
تم سے دشمن کی مبارک باد کیا

محبوب نے وصل کا وعدہ کیا ہے۔ اب شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تمہارے اس وصل کے وعدہ سے دل کیوں کر خوش ہو سکتا ہے۔کیونکہ دل اچھی طرح جانتا ہے کہ تم کبھی وعدہ وفا نہیں کرتے ہو۔تم ہمیشہ رنج ہی دیتے ہو۔ لہٰذا تم جیسے دشمن کی خوش خبری پر دل کیوں کر بھروسہ کر سکتا ہے۔

Advertisement

دوسرا شعر

کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی
آشیاں اپنا ہوا برباد کیا

گھر سے باہر جی کم ہی لگتا ہے۔لیکن جب گھر ہی اجڑر جائے تو کہیں بھی جی کو لگانا پڑتا ہے۔اب شاعر کہتا کہ پہلے قفس میں ہمارا دل لگتا نہیں تھا۔ہر وقت آہ و فریاد کرتے رہتے تھے۔لیکن ان دنوں صورت برعکس ہے کہ قید میں جی لگنے لگا ہے۔تو کیا ہمارا آشیاں یعنی گھر برباد ہو گیا جو اس طرح قید میں دل لگنے لگا ہے۔

Advertisement

چوتھا شعر

نشۂ الفت سے بھولے یار کو
سچ ہے ایسی بے خودی میں یاد کیا

محبت کا نشہ بھی عجب سرور رکھتا ہے۔آدمی ایسا بے خود ہو جاتا ہے کہ سوائے محبوب کے کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔لیکن یہاں معاملہ دوسرا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ الفت کے نشے میں اسے بے خود ہوئے کہ خود کو بھولے ہی تھے، محبوب کو بھی بھول بیٹھے۔یہ سچ ہے کہ ایسی بے خودی میں کب کچھ یاد رہتا ہے۔یعنی عشق میں اس مقام کو پہنچ گئے کہ کچھ بھی یاد نہیں رہا۔

Advertisement

چھٹا شعر

کیا کروں اﷲ سب ہیں بے اثر
ولولہ کیا، نالہ کیا، فریاد کیا

محبوب برابر ظلم و ستم کر رہا ہے۔ عاشق کی حالت قابل رحم ہوگئی۔وہ تڑپ رہا ہے، فریاد کر رہا ہے، لیکن محبوب پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔اب شاعر کہتا ہے کہ یا خُدا میں کیا کروں، کون سی تدبیر کروں کہ مجھے اس رنج و الم سے نجات ملے کیوں کہ میرا نالہ، میری فریاد تو سب کچھ بے اثر ہوگئی ہے۔

نواں شعر

بت کدہ جنت ہے، چلیے بے ہراس
لب پہ مومنؔ ہرچہ بادا باد کیا

عاشق کے نزدیک دین و دنیا سب کچھ محبوب ہوتا ہے۔لہذا بت کدہ اس کے لیے جنت کے برابر ہے۔اب شاعر کہتا ہے کہ اے مومن دودِلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بت کدہ جنت ہے۔بے خوف اور نڈر ہو کے چلیے۔لبوں پر اس طرح کے جملے کیوں کر آئیں کہ جو ہو سو ہو دیکھا جائے گا۔آپ سوئے جنت جا رہے ہیں لہذا بے ہراس چلیے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement