غزل

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا
سادگی ہائے تمنا ،یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
پھر تیرے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ، لڑکپن میں اسؔد!
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

تشریح

پہلا شعر

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

شاعر کہتا ہے کہ آج پھر مجھے دیدہ تر یاد آگیا ہے۔یعنی اپنی اشک آلودہ آنکھ یاد آ گئی ہے اور نتیجے کے طور پر میرا دل و جگر فریاد کا آرزو مند ہو گیا ہے۔گویا پھر اسی گریاوزاری کی لذت حاصل کرنے کی سعی اس میں پیدا ہوگئی ہے۔

دوسرا شعر

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

محبوب کو رخصت کرتے وقت جو دردناک کیفیت دل کی ہوئی تھی اس کو شاعر نے قیامت سے تعبیر کیا ہے۔ابھی اس قیامت نے دم بھی نہ لیا تھا یعنی اس کے چلے جانے کے بعد ابھی دل سنبھال بھی نہیں پایا تھا، سکون پذیر بھی نہ ہو سکا تھا کہ پھر اس کے جدا ہونے کا منظر یاد آگیا اور دل میں پھر وہی تلاطم پیدا ہوگیا۔

تیسرا شعر

سادگی ہائے تمنا ،یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

شاعر کہتا ہے کہ میری تمنا کی سادگی اور نادانی دیکھئے کہ مجھے پھر وہی شاطر محبوب یاد آ رہا ہے جس کی نیرنگ نظری نے میری زندگی تباہ کردی۔سادگی یہی کہ معلوم ہے کہ اس سے آرزو پوری نہیں ہوگی پھر بھی اس کی طرف دھیان ڈالا جاتا ہے۔

چوتھا شعر

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

شاعر کہتا ہے کہ ہماری یہ زندگی کسی نہ کسی طرح گزر ہی جانی تھی۔ ہمیں بےکار ہی تیری راہ گزر یاد آ گئی۔ کیوں کہ اس کا یاد آنا کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے۔ اس لیے اس کا یاد آنا فضول ہے۔

پانچواں شعر

پھر تیرے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

شاعر کہتا ہے کہ میرا خیال مجھے تیرے کوچے کی طرف لیا جا رہا ہے۔ شاید وہ کھوئے ہوئے دل کو ادھر ڈھونڈنے چلا ہے۔ کیوں کہ تیرے کوچے ہی میں دل کے کھو جانے کا شک ہے، وہم ہے۔

چھٹا شعر

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

شاعر کہتا ہےکہ ہم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہمارے گھر کی سی ویرانی کہیں اور نہیں ہوسکتی۔ مگر دشت کی ویرانی کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہم غلط تھے۔ کیوں کہ دشت بھی ہمارے گھر ہی کی طرح ویران ہے کہ اس کی ویرانی کو دیکھ کر ہمیں اپنا گھر یاد آگیا ہے۔

ساتواں شعر

میں نے مجنوں پہ، لڑکپن میں اسؔد!
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

عام طور پر پاگل کو بچے پتھر مارا کرتے ہیں۔غالب کہتے ہیں کہ بچپن میں میں نے مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر اٹھایا تھا کہ تبھی مجھے اپنا سر یاد آگیا۔مراد یہ ہے کہ مجھے خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ کل کو میں بھی دیوانہ ہو جاؤں اور لڑکے مجھے پتھر ماریں۔اس لئے میں نے پتھر نہیں مارا۔

Advertisements