غزل

پی کے ہوتے، نہ کر تو مہ کی ثنا
معتبر نہیں ہے حُسن دور نما
باعثِ نشہِ دو بالا ہے
حُسن صورت کے ساتھ حُسن ادا
اے گُل باغ حُسن! مُکھ سوں ترے
جلوہ پیرا ہے رنگ و بوے حیا
ماہِ نو،تجھ بھواں پہ کرکے نظر
سوئے مغرب چلا ہے روبہ قضا
سرخ رویاں میں سر آمد ہے
تجھ قدم کے اثر سوں رنگ حنا
نئیں ہے گُل پی کے مُکھ سا عالم میں
قائل اس بات کی ہے بادِ صبا

تشریح


پہلا شعر

پی کے ہوتے، نہ کر تو مہ کی ثنا
معتبر نہیں ہے حُسن دور نما

چوں کہ دور سے دکھائی دینے والی چیز اعتبار کے قابل نہیں ہوتی۔ لہذا شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی موجودگی میں چاند کی تعریف مت کر۔ کیوں کہ چاند بہت فاصلے پر ہے اور محبوب نزدیک ہے۔محبوب خوب صورت، حقیقت ہے، جب کہ چاند کی خوب صورتی دھوکہ بھی ہو سکتی ہے۔

دوسرا شعر

باعثِ نشہِ دو بالا ہے
حُسن صورت کے ساتھ حُسن ادا

شاعر کہتا ہے کہ میرا محبوب خوب صورت ہے اور اس کے ساتھ خوب صورت آدائیں بھی رکھتا ہے اور جب یہ دونوں چیزیں ہوں تو نشے کو دو گنا کرنے کے برابر ہو یعنی خوب صورتی دوگنی ہو جاتی ہے۔

تیسرا شعر

اے گُل باغ حُسن! مُکھ سوں ترے
جلوہ پیرا ہے رنگ و بوے حیا

شاعر،محبوب کو حسن کے باغ کا پھول قرار دیتا ہے اور مخاطب کرکے کہتا ہے کہ تمھارے چہرے سے حیا اور رنگ و بو اپنا جلوہ دِکھا رہی ہے،گویا تمھارے چہرے سے حیا ٹپک رہی ہے۔

چوتھا شعر

ماہِ نو،تجھ بھواں پہ کرکے نظر
سوئے مغرب چلا ہے روبہ قضا

شاعر کہتا ہے کہ خوب صورت چہرے والے محبوبوں میں حنا بہت مقبول ہے۔اسے بڑی سبقت حاصل ہے اور وہ برتری اسے اس لئے حاصل ہے اس نے تیرے قدموں کو چھوا ہے۔وہ تمھارے قدموں لگی ہے،اس لیے سرخ چہروں والے محبوب لوگوں میں اسے برتری حاصل ہے۔

ساتواں شعر

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے اے وؔلی تیرے کلام کو وہ سمجھ سکتا ہے جس کو قدرت نے تیز ذہن عطا کیا ہو۔

Advertisements