Advertisement
چلے بھی آؤ کہ شام ڈھلنے کو ہے
چلے بھی آو کہ کچھ بات کہنے کو ہے

دست سی ویرانی چھائی ہے اس دل میں
آ بھی جاؤ کہ کوئی طوفان اٹھنے کو ہے

غبار ہی غبار ہے دل میں کچھ دیکھتا نہیں
لگتا ہے آ ج محفلیں شمع میں پروانہ جلنے کو ہے

کاش دلِ مضطرب کو کوئی بتا دے آ کے
اب اس کا رستہ کہیں اور کو ہے
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement