Advertisement

کسی شخص کا مال اس کی مرضی یا اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر لے لینے کو چوری کہتے ہیں اور یہ عمل کرنے والے شخص کو چور کہا جاتا ہے۔ چوری کرنا دنیا کے ہر ملک اور ہر مذہب میں تقریباً ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔دیگر مذاہب کی طرح اسلام میں بھی چوری کے خلاف سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ان سزاؤں کا نفاذ خود حضرت محمد صلی و علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں کیا۔

چوری گناہِ کبیرہ ہے اور چور کے لیے شریعت میں سخت وعیدیں ہیں، چنانچہ ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔
انہی سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اگر اس نے ایسا کیا (یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا۔
اسلامی اصولوں کے مطابق چور کے کیے بطور سزا اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(مائدہ۔ع:6
مسلمانو! مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ حد اللہ کی جانب سے مقرر ہے اور اللہ زبردست واقف ہے تو جو اپنے قصور کے بعد توبہ کر لے اور اپنے آپ کو سنوار لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
چوری ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل اور کبیرہ گناہ ہے اسی کیے اسلام میں اس کی ممانعت ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement