Advertisement

چہار بیت کے لفظی معنی میں چارشعر۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ اس میں ہمیشہ چار شعر ہی ہوں۔ مثلث، مسدس، مثنوی اور مستزاد کی ہیئت میں بھی چار بیت ملتے ہیں۔ یہ افغانستان کے صوبہ سرحد کے پٹھانوں کی ایجاد سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اس کی ابتدا رام پور کے عبدالکریم خان غزنوی نے کی۔ چہار بیت اگر چہ فارسی سے ماخوذ ہے لیکن ہندوستان میں اس روایت کے تمام اجزا خالص ہندوستانی ہیں۔ یہ صنف دھروپد اور خیال گائیکی سے بہت قریب ہے۔

Advertisement

اردو چہار بیت کا فروغ نواب فیض اللہ خاں کے زمانے میں افغانی قبائل کے ذریعے 1774 کے آس پاس ہوا۔ یہ افغانی قبائل ریاست رام پور میں آباد تھے۔ ان کا تعلق اقتصادی طور پر پسماندہ طبقے سے تھا۔ آج بھی یہ طبقہ اقتصادی طور پر کمزور ہے۔ ہندوستان میں ان لوگوں کے اکھاڑے اور دنگل مختلف مقامات پر ہیں جیسے رام پور، مرادآباد، امروہہ، چاند پور، چھرایوں ، بریلی ، روہیل کھنڈ ،ٹو تک اور بھوپال وغیرہ۔

Advertisement

چہار بیت کی صنف میں ہیئت اور موضوعات کا غیر معمولی تنوع ملتا ہے۔ مذہبی ، اخلاقی ، تاریخی ، سماجی ،قومی ، ونی، احتجاجی ، سیاسی ، تقریباتی اور عشقیہ وغیرہ اس کے موضوعات ہیں۔ چار بیت کی صنف ہندوستان کے لوک گیتوں کی طرح بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

یہ صنف قوالی کے انداز پیش کش سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ دراصل گروپ مقابلے میں گائی جانے والی صنف ہے جسے اکھاڑا یا دنگل کہتے ہیں۔ دو گروہوں کے درمیان مقابلے میں سوال وجواب کا مظاہرہ کیا جا تا ہے۔ جن کا ایک ایک خلیفہ اور استاد ہوتا ہے۔ استادفن لکھ کر دیتا ہے اور خلیفہ اپنے ہمنوا کے ساتھ اس فن کو دنگل میں پیش کرتا ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ڈف ہوتا ہے۔ اس فن کے پیش کرنے میں شمشیر زنی کی طرح رقص اور پینترے بازی بھی کی جاتی ہے۔

Advertisement
چار مصرعے ہوں بہم، ربط ہو ان چاروں میں
باہمی طنز و مزاح ہوتی رہے یاروں میں
یار نغمہ کہے اور دھوم ہو اغیاروں میں
اس قرینے کی ہو چربیت، دھکا پیل نہیں
( عبدالرحمن خاں منشی بھوپال )