Advertisement

ڈراما یہودی کی لڑکی میں درج ذیل اہم کردار شامل ہیں۔
مارکس (رومن شہزادہ) ، بروٹس (مذہبی رہنما)
عزرا (بوڑھا یہودی)، حنا(یہودی عزا کی بیٹی اور مارکس کی محبوبہ) ، رومن بادشاہ، اور رومن شہزادی آکٹیویا۔
عزرا، حنا اور مارکس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے علاوہ بادشاہ ، بروٹس اور آکٹیویا کے کردار بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

اگر عزرا کے کردار کو دیکھا جائے تو عزرا ایک راسخ الاعتقاد یہودی ہے جو رومیوں کے جبر و استبداد اور سخت سے سخت مخالفت کے باوجود اپنے مذہب پر قائم رہتا ہے۔ اس نے ایمان کے مقابلے میں کبھی جان کی پروانہ کی۔ رومی حاکموں کے آگے کبھی سر خم نہ کیا۔اس کے کردار کا دوسرا پہلو ہے محبت ، رحم دلی اور انسان نوازی اس کا خاصا ہے۔ وہ اپنے دشمن بروٹس کی بیٹی حنا کو اپنی بیٹی کی طرح پالتا ہے اور اس سے بیحد محبت کرتا ہے۔ حنا کو کبھی محسوس نہیں ہونے دیتا کہ وہ اس کی بیٹی نہیں ہے۔ راست بازی، قومی جوش اور مذہبی تشخص کی ایک اعلیٰ مثال کی جھلک اس کے کردار میں موجود ہے۔

دوسرا اہم کردار حنا کا ہے۔وہ عزرا کی بیٹی اور ایک یہودی لڑکی ہے۔حنا وفا شعاری ، نسائیت اور جرأت مندی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے ، وہ عزرا کا بیحد احترام کرتی ہے اور وہ اس کی راسخ الاعتقادی سے بھی خوب واقف ہے۔حنا مارکس سے بے حد محبت کرتی ہے اور یہ معلوم ہونے پر کہ وہ ایک یہودی نہیں رومن ہے تو وہ اس کے ساتھ بھاگ چلنے کو تیار ہوتی ہے کہ اس کے باپ عزرا کو واقعے کا علم ہو جاتا ہے۔ وہ مارکس کو مذہب بدلنے کا کہتا ہے تو مارکس اس خواہش کو رد کر دیتا ہے اور محبت پر سلطنت کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ آنے والا حکمران تھا۔

Advertisement

یہی وجہ ہے کہ حنا اس کی بے وفائی پر بادشاہ کی عدالت سے انصاف کی اپیل کرتی ہے۔بادشاہ حنا کی فریاد پر شہزادے مارکس کو سزا سناتا ہے ۔حناکا کردار ، انسانیت اور وفا کا پیکر ہے۔ وہ عورت کے درد اور اس کی دلی کیفیت کو خوب سمجھتی ہے۔ اسی لیے اکٹیویا کی التجا پر مارکس کو معاف کر دیتی ہے اور مقدمہ واپس لے لیتی ہے۔

ڈرامے میں بادشاہ کا کردارمختصر ہی سہی مگر حنا کے لیے اس کا عادلانہ رویہ اور منصفانہ سلوک اس کے کردار کو عظمت اور بلندی بخشتا ہے۔ ایک طرف بیٹا ہے اور دوسری طرف قانون، مگر بادشاہ بیٹے کی محبت پر قانون کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی انصاف پسندی ہی اس کے کردار کا جمال بھی ہے اور جلال بھی۔

مارکس کہانی کے ہیرو اور شہزادے کا کردار ہےجو حنا سے محبت کرتا ہے مگر آکٹیویا سے اس کی شادی طے پاتی ہے۔ مارکس کے کردار کے ذریعہ حشرؔ نے ایسے افراد کی تصویر کشی کی ہے جو قانون کے سامنے بے بس اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہیں اور کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے مگر ساتھ ہی انھیں اپنی کمزوریوں کا احساس بھی ہے۔

بروٹس انتہائی ظالم ، سفاک اور جابر رومی ہے۔ حنا جب مارکس پر دغا بازی کا مقدمہ واپس لیتی ہے تو عزرا اور حنا کو کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے۔ اس وقت عزرا جب یہ راز بتاتا ہے کہ حنا در اصل بروٹس کی بیٹی ہے اس کی نہیں ، یہ ایک لمحہ بروٹس کی زندگی اور شخصیت کا رخ بدل دیتا ہے۔ ظالم بروٹس کے سینے میں پدرانہ محبت کا طوفان برپا ہو جاتا ہے اور وہ عزرا سے گڑگڑا کر التجا کرتا اور حنا کی زندگی کی بھیک مانگتا ہے۔

آکٹیویا کا کردار بھی صاف ستھرا اور نسائیت سے بھر پور ہے۔ وہ مارکس سے بیحد محبت کرتی ہے اور شہزادی ہوتے ہوئے حنا سے اپنے محبوب اور منگیتر مارکس کی زندگی بچانے کی التجا کرتی ہے۔

اس ڈرامے کے کردار ایسے کردار ہیں جو قاری اور ناظر پر گہرا تأثر چھوڑتے ہیں۔ یہ کردار ہمارے معاشرے کے جانے پہچانے انسان ہیں جو اچھائی برائی،نیکی بدی اور انسانی احساسات و جذبات کی زندہ اور متحرک تصویریں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔آغا حشر نے ان تمام کرداروں کی پیشکش نہایت خوبصورتی سے کی ہے۔