Advertisement
ڈھونڈتا میں پھرتا ہوں
خود کو آج بستی میں
پوچھتا ہوں یہ سب سے
ہے کوئی پتا میرا

آئینے کو جب دیکھا
اس سے میں نے یہ پوچھا
کیا عجیب چہرہ ہے
عکس کیا یہ میرا ہے

اک ندا سی آتی ہے
اور مجھ سے کہتی ہے
ڈھونڈتا ہے تو جس کو
پتھروں کے جنگل میں
آئینے میں بستی میں
وہ تو ایک لاشہ ہے

لاش کا پتہ لیکر
تو کرے گا آخر کیا
وقار احمد
Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement