Advertisement
کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں
مری آنکھوں کے قطروں میں سمندر رقص کرتے ہیں
جن آنکھوں میں کبھی ہم دیکھتے تھے اپنے چہرے کو
انھیں آنکھوں میں اب دیکھا ہے خنجر رقص کرتے ہیں
تمھارے بن کبھی کانٹے کبھی تلوار بنتے ہیں
تمھارے ساتھ ہوتے ہیں تو بستر رقص کرتے ہیں
تمھارے پاؤں کی ٹھوکر سے بستی ہو گئ صحرا
تمھارے پاؤں کے بوسوں سے پتھر رقص کرتے ہیں
درو دیوار کرتے ہیں تمھارے ہجر کا ماتم
تمھاری یاد کے چھت پر کبوتر رقص کرتے ہیں
محبت کے ستاۓ *دل* یہاں جو لوگ زندہ ہیں
ادب کے شہر میں بن کر سخن ور رقص کرتے ہیں
از قلمدلشاد دل سکندر پوری
Advertisement