کوئی مسجد کوئی مندر نہیں ہے
جبھی لوگوں کے دل میں ڈر نہیں ہے

بڑے دلکش ٹھکانے ہیں سبھی کے
کسی کے پاس لیکن گھر نہیں ہے

پرندے یوں ہی جا کے گھومتے ہیں
کسی کا شہر میں چکر نہیں ہے 

ابھی تک میں وہیں ٹھہرا ہوا ہوں
ترے آنے کی صورت پر نہیں ہے

نظر میں یوں سبھی بیمار ہیں پر
کسی اک کو بھی درد سر نہیں ہے

یہ شاعر اور کوئی ہو تو ہو پر
ہمارے گاؤں کا اِندرؔ نہیں ہے