Advertisement
خود کی بلوچی کہانی کا اردو ترجمہ:
تحریر و ترجمہ: رفیق زاہد، گوادر

وہاں پہنچتے ہی میری نگاہ فوراً اس پرپڑی،وہ ایک ادھیڑ عمر کی اونچے قد کاٹھ‌کی مریل سی خاتون تھی اور میلے کچیلے کپڑے میں ملبوس تھی ،لیکن وہ کپڑے تھے ہمارے علاقائی لباس کی طرح کے ، لیکن اسکی بولی ہماری طرح کی نہیں تھی۔ وہ ایک گھٹڑی سر پر رکھی ہوئی اور ایک لمبی لاٹھی بھی ہاتھ میں اٹھائی ہوئی تھی۔

میری اس جگہ جہاں پر ایک مسجد تھی ،پہنچتے ہی اسکی زور زور سے بات کرنے اور چلانے کی آوازآنے لگی ،لیکن میں اسکی بولی نہیں سمجھ سکا،کیونکہ وہ ایسی زبان میں بات کررہی تھی،جسے میں پہلی بار سن رہا تھا۔
,,کیا کہہ رہی ھو اماں!،،میں کہ جو اسکی چیخ و پکار سے پریشان ھوگیا تھا ،اس سے استفسار کرنے لگا۔لیکن اب وہ رونے لگ گئی تھی اور تھوڈے توقف کے ںعد چیخ مارکر پھر اپنی بولی میں گویا ھوئی،لیکن ان الفاظ کو سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے انہیں ھوا اڑاکر لے گئی۔
,,یقینا مائی یونہی چیخ پکار نہیں کرتی،ضرور اسے بڑی مصیبت یا پھر کسی پریشانی نے آن گھیرا ہے،،

اب مسجد کے سامنے نمازیوں کا ایک مجمع اکھٹا ھوگیا تھا ،جن میں سب کی یہ کوشش تھی کہ مائی کی زبان کو سمجھ سکیں ،لیکن کسی کو اس کی زبان سمجھ نہیں آرہی تھی ۔سب لوگ حیران و پریشان تھے کہ وہ کیوں اتنا چیختی چلاتی ھے،روتی بسورتی ھے۔لیکن اچانک ہی اس بھیڑ سے ایک چھوٹا لڑکا نکل کر اس سے باتیں کرنے لگا ،تو تمام لوگ انگشت بدنداں رہ گئے اور میں بھی ان متحیر لوگوں میں شامل ھوگیا کہ ھم اتنے زیادہ لوگ اور ہم میں سے کئی بڑی عمر،پھر کیونکر اسکی زبان نہیں سمجھ سکے،جبکہ ایک چھوٹا لڑکا اسکی زبان بڑی آسانی سے سمجھ رہا تھااور اب تو ان دونوں کی باتیں بھی ختم ھونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں،جبکہ دوسری طرف ہم سب بیزارکھڑے ، ان کی آپس کی نہ سمجھ میں آنے والی زبان کو بھگت رہے تھے ،کہ آخر ماجرا کیا ھے اور اب تو باجماعت نماز کا وقت بھی قریب آچکاتھا،کہ اچانک اس لڑکے نے اپنا رخ ھماری طرف موڑا۔,,اس کا بچہ کھوگیا ھے،اور اس کا بس یہی کہنا ھے کہ مسجد کا پیش امام اس بارے میں آزان دے،،
,,آذان ۔۔!!..میں پھر حیرت زدہ ہوگیا.,,آذان تو ہوگئی ہے،پھر اذان دینے کا کیا مقصد،،
تب میں نے اپنا منہ مائی کی طرف موڈا۔
۔۔،،اذان دینے کا تمہارا کیا مقصد ہے، بچے کی گمشدگی کا تو اعلان کرنا ہوتا ہے،،

اس نے اثبات میں سرہلادیا،جس سے پتا چلا کہ اس لڑکے نے فوراً اسے میری بات سمجھادی۔
,,ٹھیک ھے مائی !نماز کے بعد تمہارے بچے کی گمشدگی کا اعلان ھوگا،،اور نماز کے بعد جونہی ہم باہر نکلے وہ بوڈھی اسی وقت ہماری طرف لپکی اور لگی پھر سے چیخ و پکار کرنے کہ اسی وقت مسجد کے لاوڑاسپیکر سے اواز آنی شروع ھوگئی۔,,مسلمانو!ایک اعلان سںنو،اور اعلان ھے گمشدگی کا۔ایک بچہ لاپتہ ھے،عمر اسکی قریبا دس سال،اور رنگت گوری چٹ٘ی ،، ایک توقف کے بعد,,پھر سنو ،ایک چالیس سال کا مرد گمشدہ ھے،،
اب میں اور ھکا بکا رہ گیا ،،ملا بھول گیا کیا!!
،،پھر سنو ایک چھوٹی بچی لاپتہ ھے ،جسکی عمر بارہ سال کے قریب ھے۔،،میں حیران و پر یشان ،نیم پاگلوں کی طرح دوبارہ مسجد میں داخل ھوا،تو ملا وہاں سے نکل رہا تھا۔
,,اعلان گمشدگی سنو ، ایک جوان لڑکی گم ھوگئی ھے۔اسکی عمر اٹھارہ سال کے لگ بھگ ہے،،
,,ملا ! اعلان گمشدگی ھوا۔،،میں بدحواسی میں ملا کے جوتوں پر کھڑا تھا,جھبی ملا غصیلے انداز میں گویا ھوئے ،،جی ھاں تین دفعہ تو میں نے اعلان کیا کہ دس سال کا بچہ غائب ھے۔۔۔ میرے جوتوں پر پیر ہٹادو۔۔۔۔۔۔!!
اور میں نے شرمندگی سے اپنے پیر اسکے پچکے ھوئے جوتوں پر سے ہٹادئیے۔
،,,لیکن یہ اور دوسرے اعلانات!!،،
میں نے اسکی توجہ ان آوازوں کی طرف مبذول کرائی ۔جو تواتر سے آرہی تھیں ۔,,ایک ادھیڑ عمر کا شخص گمشدہ ھے،جسکی عمر ساٹھ سال سے اوپر ھے،،

،،میرے عزیز! یہ اعلانات دوسرے مساجد سے آرہے ہیں،،اس نے مجھے سمجھانے کی کو شش کی،غصے سے جھاڈکر اپنے جوتے پہنےاور لاٹھی ٹیکتا ھوا مسجد کے دروازے کی چل دیا۔
میں بھی اسی سرعت سے باہر نکلا ،تو وہ مائی حیرت زدہ نظروں سے مجھے گھورنے لگی۔
,,ویسے تمہاری کون گم ھوگئی ھے،، وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی اورمیں سمجھ گیا کہ وہ کچھ نہیں سمجھ سکی۔لیکن ایک اور اعلان ابھی بھی ھورہا تھا۔,,ایک شادی شدہ عورت گمشدہ ھو گئی ھے،عمر یہی کوئی تیس پینتیس سال ھوگی۔ ایک شیر خوار بچہ بھی ساتھ ھے،،میں نے حیرت سے اس مائی کی طرف دیکھا،لیکن وہ لاٹھی ٹیکتی ھوئی ان نقاروں کی اور رواں داں ھوگئی،تو میں نے بھی اسی وقت جست لگائی اور اسکے پیچھے دوڈ پڑا۔
اس سمے سڑک سنسان تھی ،نا آدم نا آدم زاد اور نہ ہی وہاں کوئی لاری موٹر نظر آئی۔دکانیں ساری مقفل ،کوئی زی روح ماسوائے اس مائی کےاور میرے نہیں تھا۔
,,لگتا یہی ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقید ھوگئے ہیں،صرف میں ہی باہر ھوں،،اور اس بات پر مجھے جھر جھری سی آگئی اور جب حالات کی گھمبیری کا ادراک ھونے لگا،تو زھن فوراًگھر کی طرف مڑ گیا۔,,مجھے اب اپنے گھر جانا چائیے۔،،تب میں نے اس مائی کا تعاقب چھوڈدیا اور اپنے گھر کی اور چلا۔,,لیکن یہ کیا!!میں کہاں پر آگیا ھوں،یہ تو ھمارا کوچہ نہیں ھے اور نہ ہی یہ ہمارا محلہ لگتا ھے۔،،میں کچرا اور گندگی سے بھری ھوئی گلی میں کھڑا تھا۔

,,ھمارا کوچہ ،ہماری گلیاں تو نکھری نکھری اور صاف ستھری ہوتی تھیں،یہ اچانک کب یوں گندگی کا ڈھیر بن گئیں ،پرسوں صبح ہی تو میں انہیں درست حا لات میں چھوڑ کے گیا تھا،اپنے کھیتوں کی سبزیوں کی قیمت کی وصولی کے لئے سراجیو گیا تھا اور یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ، اور آج یہ ایسے کیسے ھوگیا،،میں حیران و پریشان گلی کے نکڑ ہر بت بنا کھڑا تھا۔
،یقیناً یہ گھر بھی ہمارا نہیں ھے
،،۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں۔۔۔ھمارا گھر تو ایک بہت بڑا اور خوبصورت بنگلہ تھا اور یہاں پر تو کوئی عمارت ہی موجودنہیں ھے ،چاروں طرف کھنڈرات ہی کھنڈرات نظر آرہے ہیں ،او ر چھوٹے بڑے خیموں کی ایک دنیا سی آباد ھوگئی ھے ۔
،،ہمارا بنگلہ کہاں گیا اور محلے کے دیگر لوگوں کے گھر اور بنگلے کہاں گئے۔لوگ کہاں چلے گئے،کوئی دکھائی کیوں نہیں دیتا،،میں دیوانوں کی طرح اپنے گھروں کی جگہ ایستادہ خیموں کی بستی میں گھس گیا۔

،،یہ کیا ۔۔۔۔اے خدا یہ کیا ھوا۔۔۔،،میری چیخ نکل پڑی ۔ سامنے میرے اماں،ابا کی لہو میں لتھڑی ہوئی بے گوروکفن لاشیں پڑی تھیں۔میں گلوکیر لہجے اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ تیزی سے اماں کی لاش کی ظرف لپکا اور دوزانو ھوکر بیٹھ گیا،اپنی جنت کا بے حس و حرکت سر اٹھاکر اپنی گود میں رکھا،ساتھ ھی اب ابا کی لاش تھی ،جسکی آنکھیں شاید کسی کے انتظار میں اب تک کھلی ہوئی تھیں۔میرا دھیان فوراً اپنے سب سے چھوٹے بھائی اور بڑی بہن کی طرف گیا۔,,کہاں ھو ولید جان!،،،کہاں ھو ۔۔۔سسترو (Sestro)اور میری آواز میری اپنی سماعتوں سے ٹکراکر واپس آگئی۔لیکن آٹے کی بوریوں کے پیچھے پڑی ھوئی میرے بھائی اور بہن کی بے گوروکفن برہنہ لاشوں نے پوری صورتحال کو میرے سامنے کھلی کتاب کی طرح واضح کردیا۔وہ بھی اماں ابا کی طرح گولیوں سے بھون دئیے گئے تھے،لیکن فرق تھا تو صرف یہ کہ ان دونوں معصوموں کی لاشوں کو بے دردی سے بھنبوڑا گیا تھا،شاید انہوں نے ان معصوموں کی عصمت دری بھی کی تھی،جو مجھ سے برداشت نہیں ہوسکا اور میرا سر چکرانے لگا،اور میں آہ وزاری کرتا ھوا بے ہوش ھوکر ان لاشوں کے اوپر گرپڑا۔کہ اچانک ایک زور کی چیخ سے میری آنکھ کھل گئی۔

Advertisement

,,یہ کیا ،یہ کن لوگوں کی لاشیں میرے سامنے رکھی ھوئی ہیں،کون ہیں یہ لوگ ،،میں آنکھوں کوملتا ہوا اٹھ بیٹھا،میرے سامنے ٹی وی آن تھا ،اور جب میں ان سارے واقعات کو واپس یاد کرنے کی سعی کرنے لگا۔تو۔۔۔۔,,اوھو۔۔۔۔آج تو مجھے جنگ زدہ بوسنیا کے بارے میں بی بی سی کی ڈاکیومنٹری فلم دیکھنی تھی ۔تب میں وی سی آر کی طرف بڑھا،لیکن وہاں پر میری لائی ہوئی فلم موجودنہیں تھی۔,,شاید بجلی چلی جانے کی وجہ سے وی سی آر کے اندر رہ گئی ہو۔تب میں نے اجیکٹ (Eject)کا بٹن دبایا،لیکن کیسٹ نہ نکلی ،اس کی جگہ میرے چہرے پر لہو کی بوچھاڑ ہوئی ،جو مجھے اس بات پر متیحر کرگئی کہ وہ بوچھاڑ وی سی آر سے نکل رہی تھی اور میرا پورا چہرہ لہولہان ھوگیا تھا،تب میں حواس باختہ ھوکر سیدھا واش روم کی طرف لپکا اور جونہی منہ دھونے کے لئے جھکا تو آئینہ نے مجھے میرا مکروہ چہرہ دکھادیا اور اس پر لہو سے لکھا ھوا۔۔۔بوسنیا ۔۔۔۔بوسنیا بھی صاف صاف دکھائی دینے لگا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement
Advertisement