Advertisement
  • کتاب” اردو گلدستہ “برائے چھٹی جماعت۔
  • سبق نمبر07:لوک کہانی۔
  • سبق کا نام: کچھوا اور تالاب۔

خلاصہ سبق: کچھوا اور تالاب

یہ سبق جانوروں کی ایک لوک کہانی ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب سب جانور آپسی میل جول سے رہا کرتے تھے۔ایک سال بارش باکل نہ ہوئی تمام ندی نالے اور تالاب سوکھ گئے۔ پانی کی کمی سے جانور مرنے لگے۔ جانوروں کا یہ حال دیکھ کر شیر نے تمام جانوروں کا ایک جلسہ طلب کیا۔

کسی نے مشورہ دیا کہ یہ جگہ چھوڑ کر وہاں چکے جائیں جہاں پانی کی کمی نہ ہو۔ کچھوے نے کھس لمبا سفر طے کرنا مشکل ہے۔ سانپ نے کہا یہ عرصہ سو کر گزارا جائے۔ خرگوش نے کہا وہ اتنا لمبا سو نہیں سکتا۔ آخر جانوروں نے پانی جمع کرنے کے لیے تالاب کھودنے کا سوچا کہ اس میں پانی بھر جائے گا اور جب پانی کی کمی ہو گی تو وہ اس کو استعمال کر لیں گے۔

Advertisement

تالاب کی کھدائی میں سب جانوروں نے مل کر حصہ لیا۔سب سے پہلے جنگل کے راجا شیر نے کھدائی کا کام شروع کیا۔ باری باری سب کام کرنے لگے۔ آخری کام گیدڑ کو مکمل کرنا تھا مگر گیدڑ کی باری آئی تو وہ کہیں نظر نہ آیا۔ آخر اس کا انتظار کرنے کی بجائے کام کو مکمل کر دیا گیا۔چند روز کی بارش کے بعد وہ تالاب پانی سے بھر گیا۔ شیر نے سب جانوروں کو بلا کر کھا کہ اس تالاب سے صرف وہ جانور پانی پیئیں گے جنھوں نے کھدائی میں حصہ لیا ہے۔

Advertisement

گیدڑ نے جھاڑیوں میں چھپ کہ تمام باتیں سن لیں۔گیدڑ نے تالاب سے پانی پینے کا یہ طریقہ سوچا کہ وہ صبح سویرے آتا۔ دوسرے جانوروں کے پہنچنے سے پہلے تالاب پہ آ کر خوب سارا پانی پیتا اور یوں چوری چوری پانی پینے کے بعد وہ چھپ جاتا۔ایک روز گیدڑ نے اس پانی میں نہا لیا جس سے سارا پانی گدلا ہو گیا۔ دوسرے روز جانوروں نے دیکھا تو شیر غرایا کہ پانی کس نے خراب کیا۔ سب نے لا علمی کا اظہار کیا۔

Advertisement

کچھوے نے کہا کہ میں چور پکڑنے کی ترکیب بتاتا ہوں۔کچھوے نے اپنی کمر پہ موم لگوا لی اور خود کو اپنے خول میں بند کرکے رات بھر تالاب کنارے انتظار کرتا رہا۔ دور سے دیکھنے پہ وہ ایک پتھر مرلوم ہوتا۔ جیسے ہی گیدڑ نے اس پہ پاؤں رکھ کر گردن جھکا کر پانی پینے لگا۔ اس نے آگے بڑھنا چاہا تو اس کے پاؤں چپک چکے تھے۔ گیدڑ نے کچھوے کا۔خول توڑنا چاہا مگر ناکام ہوا۔

یوں کچھوے نے گیدڑ کو پکڑا اور سب کے سامنے پیش کر دیا۔ سب نے گیدڑ کو برا بھلا کہا۔شیر آیا تو اس نے کھا اسے جان سے مار دیا جائے اور سزا کا طریقہ یہ طے ہوا کہ بھیڑیا اس کی دم پکڑ کر اسے زمین پر دے مارے۔ گیدڑ چالاک تھا اس نے اپنی خوراک سے چربی اپنی دم۔پہ مل لی اگلے روز بھیڑیا اس کی دم نہ پکڑ سکا اور یوں گیدڑ فرار ہو گیا۔ سب جانور دیکھتے رہ گئے اس دن کے بعد گیدڑ کبھی تالاب پہ نہ آیا مگر کچھوا آج بھی اس کا انتظار کررہا ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

شیر نے تمام جانوروں کو کیوں جمع کیا؟

ایک سال بارش باکل نہ ہوئی تمام ندی نالے اور تالاب سوکھ گئے۔ پانی کی کمی سے جانور مرنے لگے۔ جانوروں کا یہ حال دیکھ کر شیر نے تمام جانوروں کا ایک جلسہ طلب کیا۔

جانوروں نے پانی جمع کرنے کا کونسا طریقہ اپنایا؟

جانوروں نے پانی جمع کرنے کے لیے تالاب کھودنے کا سوچا کہ اس میں پانی بھر جائے گا اور جب پانی کی کمی ہو گی تو وہ اس کو استعمال کر لیں گے۔

Advertisement

تالاب کی کھدائی کس طرح ہوئی؟

تالاب کی کھدائی میں سب جانوروں نے مل کر حصہ لیا۔سب سے پہلے جنگل کے راجا شیر نے کھدائی کا کام شروع کیا۔ باری باری سب کام کرنے لگے۔ آخری کام گیدڑ کو مکمل کرنا تھا مگر گیدڑ کی باری آئی تو وہ کہیں نظر نہ آیا۔ آخر اس کا انتظار کرنے کی بجائے کام کو مکمل کر دیا گیا۔

گیدڑ نے تالاب سے پانی پینے کا کیا طریقہ اختیار کیا؟

گیدڑ نے تالاب سے پانی پینے کا یہ طریقہ سوچا کہ وہ صبح سویرے آتا۔ دوسرے جانوروں کے پہنچنے سے پہلے تالاب پہ آ کر خوب سارا پانی پیتا اور یوں چوری چوری پانی پینے کے بعد وہ چھپ جاتا۔

Advertisement

کچھوے نے گیدڑ کو کس طرح پکڑا؟

کچھوے نے اپنی کمر پہ موم لگوا لی اور خود کو اپنے خول میں بند کرکے رات بھر تالاب کنارے انتظار کرتا رہا۔ دور سے دیکھنے پہ وہ ایک پتھر مرلوم ہوتا۔ جیسے ہی گیدڑ نے اس پہ پاؤں رکھ کر گردن جھکا کر پانی پینے لگا۔ اس نے آگے بڑھنا چاہا تو اس کے پاؤں چپک چکے تھے۔ گیدڑ نے کچھوے کا۔خول توڑنا چاہا مگر ناکام ہوا۔ یوں کچھوے نے گیدڑ کو پکڑا اور سب کے سامنے پیش کر دیا۔

گیدڑ کو کیا سزا دی گئی؟

گیدڑ کو سزا سنائی گئی کہ بھیڑیا اس کی دم پکڑ کر اسے زمین پر دے مارے۔

Advertisement
Advertisement