کیا ہوا باندھی ہے صدقے نالۂ شبگیر کے
آسماں پر اکھڑے جاتے ہیں قدم تاثیر کے

بے مروت بن کے اب کیا سوئے صحرا جائیے
لوٹتے ہیں پاؤں پر حلقہ میری زنجیر کے

ضبط باقی غم سلامت ہے تو سن لینا کبھی
آہ گبھرا کر نکل آئی کلیجہ چیر کے

وصل سے محروم میں ہوں ورنہ گستاخی معاف
بوسے لیتا ہے تصور آپ کی تصویر کے

مجھ کو مضطر دیکھ کر کہتا ہے قاتل پیار سے
آ ادھر سایہ میں سو جا دامنِ شمشیر کے


میرے مرتے ہی دل بیتاب کو چین آگیا
زندگی صدقے میں اتری گردش تقدیر کے

دیکھ فانی وہ تیری تدبیر کی میت نہ ہو
اک جنازہ جا رہا ہے دوش پر تقدیر کے