Advertisement

ہائیکوا یک جاپانی صنف ہے۔ اردو شاعری میں اس کا رواج بہت بعد میں ہوا۔ ہائیکو تین سطروں پر مشتمل ایک مختصر نظم ہوتی ہے۔ یہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے پہچانی جاتی ہے۔ ہائیکو کی بناوٹ پانچ، سات اور پانچ صوتی ارکان کےو زن پر قائم ہوتی ہے۔ ان عروضی ارکان کی ترتیب دیکھیے :
فعلن،فعلن ،فع
فعلن،فعلن،فعلن،فع

اس صنف کو اردو ادب میں سب سے پہلے شاہد احمد دہلوی نے اپنے رسالے ساقی کے جاپانی ادب نمبر مطبوعہ 1936 میں متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد دوسرے رسائل میں بھی ہائیکو پرکئی مقالات شائع ہوئے۔

Advertisement

ہائیکو کو پہلے جاپانی میں ہائی کائی یا ہوکو کہا جاتا تھا۔ پنجابی صنف ماہیے اور اردو میں گلاٹی ہائیکو سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن عروضی اعتبار سے ان میں فرق ہے۔ ہائیکو میں عام طور پر مناظر فطرت کے مشاہدات و تجربات بیان کیے جاتے رہے ہیں لیکن آج یہ کسی ایک موضوع کی پابند نہیں ہے۔

Advertisement

اردو میں حمد میں اور نعتیں بھی ہائیکو میں کہی ہیں۔ جاپانی ہائیکو کی طرح اردو ہائیکو میں بھی عنوانات قائم کرنے کا رجحان عام ہے۔ اردو میں نادم بھٹی ، کرامت علی کرامت ، حنیف کیفی ، کوثر صدیقی اور علیم صبا نویدی وغیرہ نے ہائیکو لکھے ہیں ۔ ہائیکو کا نمونہ دیکھیے :

Advertisement
وہ اتنا رویا
انساں تو خود انساں ہے
پتھر بھی پگھلا
Advertisement