غزل

ہر ایک سوں مل، متواضح ہو، سروری یہ ہے
سنبھال کشتی دل کوں، قلندری یہ ہے
نکال خاطرِ فاطر سو ں،جام جم کا غم
صفا کر آئینہ دل، سکندری یہ ہے
خیال یار کوں، رکھ اپنے دل میں مہکم کر
کہ عاشقاں کے نزک شیشہ و پری یہ ہے
بسا عزیز ہے تجھ مکھ کے آفتاب پرست
تو جلوہ گر ہو، اب ذرّا پروری یہ ہے
ٹک اک نقاب اُچا کر،اپس کا مُکھ دکھلا
کہ دلبراں کے نزک حق دلبری یہ ہے
بسا ر دل سوں آپس کے تو یاد خا قافی
وؔلی کوں دیکھ،کہ اب رشک انواری یہ ہے

تشریح

پہلا شعر

ہر ایک سوں مل، متواضح ہو، سروری یہ ہے
سنبھال کشتی دل کوں، قلندری یہ ہے

شاعر کہتا ہے کہ ہر ایک سے انکساری سے ملو، اس کی خاطر و مدارات کرو کہ یہی بادشاہت ہے اور اپنے دل کی کشتی کو کہ جو بے قابو ہو جائے تو پھر اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا،سنبھالو۔یہی درویشی ہے۔

دوسرا شعر

نکال خاطرِ فاطر سو ں،جام جم کا غم
صفا کر آئینہ دل، سکندری یہ ہے

آپنے اس کمزور دل سے یہ رنج نکال دو کہ تمھارے پاس جمشید کا وہ پیالہ نہیں ہے جس میں وہ دنیا کا عکس دیکھا کرتا ہے۔گویا بہت قیمتی چیز تمہارے پاس نہیں ہے۔بلکہ اپنے دل کے آئینے کو صاف و پاک کرو۔دل میں کدورت کی میل نہ جمنے دو کہ سکندری یہی ہے، بادشاہت یہی ہے۔

تیسرا شعر

بسا عزیز ہے تجھ مکھ کے آفتاب پرست
تو جلوہ گر ہو، اب ذرّا پروری یہ ہے

شاعر محبوب کے چہرے کو آفتاب سے تشبیہ دیتا ہے۔ کہتا ہے کہ تیرے چہرے کے، آفتاب کے پرستش کرنے والے گویا عاشق بہت عزیز ہیں۔ تو انھیں اپنا جلوہ دیکھا کہ اسی میں ذرّا پروری ہے۔

چوتھا شعر

ٹک اک نقاب اُچا کر،اپس کا مُکھ دکھلا
کہ دلبراں کے نزک حق دلبری یہ ہے

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب ذرا نقاب اٹھا کر اپنا چہرہ دکھا دے کہ محبوبوں کے نزدیک محبوبیت کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے۔

پانچواں شعر

بسا ر دل سوں آپس کے تو یاد خا قافی
وؔلی کوں دیکھ،کہ اب رشک انواری یہ ہے

غزل کے مقطع میں شاعر تعلٰی سے کام لیتے ہوئے کہتا ہے کہ اپنے دلوں سے خاقاؔنی(فارسی کے ایک زبردست شاعر کا نام) کی یاد کو نکال دو۔اب وؔلی کو دیکھو کہ انوری (فارسی کا ایک مشہور شاعر) بھی جس پر رشک کرتا ہے۔

Advertisements