Advertisement
Advertisement
ہر سو کھڑا ہے اونچا کئے سر کوئی الم
یہ زندگی ہے یا ہے سراسر کوئی الم
پھر مل گئی ہے آنکھ کسی خوش نگاہ سے
پھر ہو گیا ہے اپنا مقدر کوئی الم
پچھلے کی تاب تیرے دِوانے کو آ گئی!
دے جا ہمیں دوبارہ ستمگر کوئی الم!
مَیں سوچتا ہوں کیسے ملے گی اُسے نجات؟
دنیا سے جو نہیں گیا لے کر کوئی الم؟
ہر کامیاب شخص کے پیچھے ملا عزیز!
کوئی حسین خواب، کوئی ڈر، کوئی الم
عزیؔز اختر

Advertisement
Advertisement