غزل

ہمارے آگے تِرا جب کسو نے نام لیا
دِل سِتم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا۔
وہ کحج رَوِش نہ مِلا راستی میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے نے مِر اسلام لیا۔
مِرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا۔
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میر
پہ میرے شعر نے روئے زمین تھام لیا یا۔

تشریح

ہمارے آگے تِرا جب کسو نے نام لیا
دِل سِتم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا۔

میر فرماتے ہیں کہ میرے سامنے جب کوئی میرے محبوب کا نام لیتا ہے ہے تو میرے دل بے چین ہو جاتا ہے اور میں محبوب کا دیدار کرنے اور اسے ملنے کے لیے بتیاب ہو جاتا ہوں اور بڑی مشکل سے دل پر قابو پاتا ہوں۔

وہ کحج رَوِش نہ مِلا راستی میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے نے مِر اسلام لیا۔

شاعر فرماتے ہیںں کہ میرا محبوب ٹیڑی چال والا ہے۔وہ کبھی بھی اس سے سیدھی طرح پیش نہیں آتا۔ وہ اس قدر ناز و انداز کا مارا ہے اور مغرور ہےکہ اگر کہیں ملاقات ہو بھی جائے تو وہ کبھی خوش اسلوبی سے اپنے عاشق کی سلام کا جواب نہیں دیتا یعنی وہ اس سے کبھی بھی محبّت اور خلوص کا اظہار نہیں کرتا۔

مِرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا۔

میر تقی میر فرماتے ہیں کہ میں نے زندگی میں یوں تو ہمیشہ ناکامیوں اور محرومیاں ہی دیکھی ہیں۔ لیکن محبت میں مَیں نے بڑے سلیقے شاسٔتگی سے کام لیا۔محبوب کے ظلم و ستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔اس راہ کی ناکامی اور محرومیوں کے واسطے رہا مگر اس کا اظہار نہیں ہونے دیا اور نہایت شاسٔتہ اور مہذب انداز میں زندگی گزاردی کہ نہ تو محبت بد نام ہوئی نہ ترکِ محبت کا خیال ہی دامن گیر ہونے دیا۔اس طرح محبت میں میری نِبھ ہی گئ۔

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میر
پہ میرے شعر نے روئے زمین تھام لیا یا۔

میری اس مقطع میں قدرے تعلی سے کام لے کر اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ عام شعراَ کے برعکس مَیں شہرت کا خواہش مند نہیں ہوں بلکہ گوشہ نشینی میں رہنے والا انسان ہوں۔اپنے آپ کو نمایاں نہیں کرتا لیکن کیا کروں کہ میرے اشعار نے مجھے ایسی شہرت دی جو دوسروں کو نصیب نہ ہوئی۔میرے اشعار کی وساطت سے میرے دکھی دل کی پکار روائے زمین پر پھیل گئی اور یہی میری شہرت کا باعث ہوئی،ورنہ میں تو گوشہ نشین انسان تھا۔

Advertisements