Advertisement

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام فیض احمد فیض ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوئے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی۔ جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے۔ ان کا عشق درد مندی میں ڈھل کر انسان دوستی کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر یہ انسان دوستی اک بہتر دنیا کا خواب بن کر ابھرتی ہے۔ان کے الفاظ اور استعاروں میں اچھوتی دلکشی،سرشاری اور پہلوداری ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فیض نے شاعری کا اک نیا دبستاں قائم کیا۔

Advertisement

(غزل نمبر ۱)

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کے پاس موجود وہ کتاب جس میں ہمارے نصیب لکھے ہوئے ہیں، اس کی پرورش کرتے رہیں گے۔ اس میں جو کچھ ہے اس سب کو ہم اپنے ساتھ ہوتا ہوا محسوس کریں گے اور یہ سب ہوتے وقت ہمارے دل کو جیسا بھی محسوس ہوگا وہ سب بھی ہم رقم کرتے رہیں گے۔ اور اسے محفوظ کرتے رہیں گے۔

Advertisement
اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہمارے عشق میں ہمیں جو بھی غم ملے ہیں اور ان تمام غموں کی جو وجوہات ہیں وہ ہم آپ لوگوں کو بتائیں گے، اور ہمیں اپنے آس پاس اور اپنے اندر جو ویرانی محسوس ہوتی ہے ہم اس کا ذکر بھی آپ لوگوں سے کریں گے اور اپنے اس ویرانے دل پر کرم کرتے رہیں گے۔

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے محبوب کی جانب سے جو ظلم ڈھایا گیا ہے وہ تو کچھ بھی نہیں ہے اور ہمارا محبوب جو چاہے وہ ہمارے ساتھ کر سکتا ہے۔ ابھی ہمارے زندگی میں موجود کڑواہٹ اور زیادہ بڑھے گی اور ہمارا محبوب اپنے مظالم کی مشق ہم پر کرتا رہے گا اور اپنے مظالم ہم پر آزماتا رہے گا۔

Advertisement
منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے محبوب سے اتنی محبت ہے کہ ہمیں اس کی یہ تلخی اور یہ ستم سب کچھ گوارا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیں غم بھی دے گا تو ہم اس کے بدلے اسے خوشی دیں گے اور اس کے غم کا مداوا کرتے رہیں گے۔ جس کی وجہ سے وہ ظالم اور سخت دل بن گیا ہے۔

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں جب تک ان کی محبت اور فکر موجود ہے تب تک ہم تمہارے لبوں اور تمہارے رخسار پر مسکراہٹ بکھیرتے رہیں گے اور اپنے ہر اس آنسو کے بدلے جو تم نے مجھے دیا ہے تمہیں محبت دے دیں گے اور کبھی بھی تمہارے کسی بھی ظلم کا ذکر کرکے تمہیں شرمندہ نہیں کریں گے، بلکہ تم سے محبت کرتے رہیں گے۔

Advertisement
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہمارا محبوب ہم پر کرم کرنے سے غافل ہے تو یہ غفلت اسے مبارک ہو، لیکن چونکہ ہم اس کی تمنا کرتے ہیں اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں، تو ہمیشہ ان سے محبت کرتے رہیں گے اور اس کی غفلت ہماری محبت کو کم نہیں کر سکتی، کیونکہ ہم اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور ہماری محبت کے سامنے اپنی غفلت کی چادر کو اتار پھینکنا ہو گا۔

(غزل نمبر ۲)

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم آجاؤ کیونکہ تمھارے آنے سے ہی پھولوں میں رنگ بھرتا ہے اور بہار کی ہوا ہر طرف پھیلنے لگتی ہے، وہ اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو ہر رنگ تم سے ہی جڑا ہوا ہے اور اگر تم موجود نہ ہو تو ہمارے لیے تو ہر موسم خزاں کا موسم ہے اس لیے تم جلد از جلد یہاں آجاؤ۔

Advertisement
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

اس شعر میں شاعر اپنے دوستوں سے کہتے ہیں کہ اب تو ہوا بھی اداس ہو گئی ہے۔ اتنے وقت سے ہمارے محبوب کا ذکر نہیں ہوا ہے، اب خدا کا واسطہ ہے کہ ہمارے محبوب کا ذکر کرو تاکہ اس ہوا میں کچھ رونق پیدا ہوسکے اور ہمارے تڑپتے دل کو بھی تسکین حاصل ہو سکے۔

کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سر کاکل سے مشک بار چلے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ کبھی میری صبح کا آغاز اتنا خوبصورت ہو کے میں صبح ہوتے ہی سب سے پہلے تمہارے لبوں سے اپنا نام سنوں، اور پھر میرا وہ دن اتنا اچھا گزرے کہ شام ہونے کہ باوجود تم میرے ساتھ رہو اور شام کا آغاز بھی تمہارے خوبصورت لبوں سے اپنا نام سنتے ہو۔

Advertisement
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میرے دل کا درد سے بہت گہرا تعلق ہے اور میرا یہ دل ہمیشہ غریب اور دکھی ہی رہتا ہے، شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ہم یہاں سے غمزدہ اور دکھی ہو کر جا رہے ہیں لیکن جب بھی ہمارے سامنے تمہارا نام لیا جائے گا یا جب بھی تو ہمیں پکارو گے ہم واپس لوٹ آئیں گے۔

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

اس شعر میں شاعر دکھی ہوکر اس رات کو مخاطب کرتے ہیں کہ جب وہ اپنے محبوب سے بچھڑے تھے اور کہتے ہیں کہ اس رات ہمارے ساتھ جو ہوا سو ہوا لیکن اس رات ہمارے آنسوؤں نے اس رات کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ اور وہ رات اس بات کا ثبوت ہے کہ جب محبت کرنے والے بچھڑتے ہیں تو ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔

Advertisement
حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے ہمیشہ اپنے محبوب کی طلب رہتی ہے، اور میں ہمیشہ اپنے محبوب کو یاد کرتا رہتا ہوں اور اپنے محبوب کی یاد کو دل میں لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا رہتا ہوں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اپنے محبوب کو یاد کرتے کرتے اور اس کی یاد میں بے خبر ہوکر چلتے چلتے میرا گریبان بھی تار تار ہو چکا ہے اور مجھے اس بات کی خبر بھی نہیں ہے۔

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

اس شعر میں شاعر اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ جب میں اپنے محبوب سے بچھڑ کر نکلا تو میں نے سوچ لیا تھا کہ میں اپنے محبوب کی جگہ کسی اور کو دے دوں گا ،لیکن مجھے پورے سفر کے دوران کوئی شخص ایسا نہیں ملا جو میرے محبوب کے شایان شان ہو۔ اور جس سے میں اپنا دل دے سکوں۔ اور اس لیے اپنے محبوب کے پاس سے جانے کے بعد اب میں اپنے آخری سفر کی جانب رواں دواں ہو۔

Advertisement

سوال ۱ : ذیل کے اشعار کی تشیرح کیجیے :

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کے پاس موجود وہ کتاب جس میں ہمارے نصیب لکھے ہوئے ہیں، اس کی پرورش کرتے رہیں گے۔ اس میں جو کچھ ہے اس سب کو ہم اپنے ساتھ ہوتا ہوا محسوس کریں گے اور یہ سب ہوتے وقت ہمارے دل کو جیسا بھی محسوس ہوگا وہ سب بھی ہم رقم کرتے رہیں گے۔ اور اسے محفوظ کرتے رہیں گے۔

منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے محبوب سے اتنی محبت ہے کہ ہمیں اس کی یہ تلخی اور یہ ستم سب کچھ گوارا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیں غم بھی دے گا تو ہم اس کے بدلے اسے خوشی دیں گے اور اس کے غم کا مداوا کرتے رہیں گے۔ جس کی وجہ سے وہ ظالم اور سخت دل بن گیا ہے۔

Advertisement
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم آجاؤ کیونکہ تمھارے آنے سے ہی پھولوں میں رنگ بھرتا ہے اور بہار کی ہوا ہر طرف پھیلنے لگتی ہے، وہ اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو ہر رنگ تم سے ہی جڑا ہوا ہے اور اگر تم موجود نہ ہو تو ہمارے لیے تو ہر موسم خزاں کا موسم ہے اس لیے تم جلد از جلد یہاں آجاؤ۔

Advertisement

سوال ۲ : مندرجہ ذیل میں سے کون سے مرکب عطفی ہیں اور کون سے مرکب اضافی :

مرکب عطفیمرکب اضافی
لوح و قلماسباب غم
لب و رخسارکاروبار
نقش ونگاربادنوبہار
شعلہ و شبنمکوئے یار
طرز تغافل

سوال ۳ : مندجہ ذیل جملوں میں روز مرہ اور محاورے کی جو غلطیاں ہیں وہ درست کرکے لکھیے :

میری امیدوں پر شبنم پڑگئی۔
آتشدان کی آتش بجھا دو۔
آجکل اس کا دماغ فلک پر ہے۔
میں ان دنوں میں امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں۔
وہ دن سے رات تک محنت کرتا ہے۔
بارش کیا ہوئی کہ ساری زمین گل و بہار ہو گئی۔انسان پانی کا حباب ہے۔
اچھا ہوا کہ وہ بدبخت دوزخ رسید ہو گیا۔

  • جواب :
  • میری امیدوں پر اوس پڑگئی۔
  • آتشدان کی آگ بجھا دو۔
  • آج کل اس کا دماغ آسمان پر ہے۔
  • میں آج کل امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں۔
  • وہ دن رات محنت کرتا ہے۔
  • بارش کیا ہوئی ساری زمین گل بہار ہو گئی۔
  • انسان پانی کا بلبلہ ہے۔
  • اچھا ہوا کہ وہ بدبخت جہنم رسید ہو گیا۔
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement