Advertisement

غزل

ہیں نغمہ ونشاط بھی، فریاد و آہ بھی
ماتم کدہ بھی دل ہے تری جلوہ گاہ بھی
خاطر میں ایسے ویسوں کو لائی نہ آج تک
اونچی ہے کس قدر، تری نیچی نگاہ بھی
اے شیخ! کاش تیری سمجھ میں یہ راز آئے
ہیں کچھ برے ثواب، کچھ اچھے گناہ بھی
عالم ازل سے تابہ ابد بے کراں سکوت
لیکن نکل ہی جاتی ہے کچھ آہ آہ بھی
محو خطاب، ناصح مشفق ہوں اے فراقؔ
کچھ مجھ سے کہہ رہی ہے وہ چشم سیاہ بھی

تشریح

ہیں نغمہ ونشاط بھی، فریاد و آہ بھی
ماتم کدہ بھی دل ہے تری جلوہ گاہ بھی

شاعر کہتا ہے کہ عشق میں اس دل کی یہ حالت ہوگی ہے کہ اس میں نغمہ و نشاط یعنی راگ و شادمانی کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ہے اور آہ و فریاد بھی اس میں موجود ہے۔گویا یہ دل تمہاری تماشا گاہ بھی ہے اور یہی دل ماتم خانہ بھی بن گیا ہے۔

Advertisement
خاطر میں ایسے ویسوں کو لائی نہ آج تک
اونچی ہے کس قدر، تری نیچی نگاہ بھی

محبوب کبھی نظر اٹھا کر عشاق کو دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تمھاری یہ نیچی نظریں بھی کس قدر بُلند ہیں کہ یہ کسی ایرے غیرے کو آج تک خاطر میں نہیں لائی ہیں۔

Advertisement
اے شیخ! کاش تیری سمجھ میں یہ راز آئے
ہیں کچھ برے ثواب، کچھ اچھے گناہ بھی

شاعر کہتا ہے کہ اے شیخ تو جو ہر وقت اچھے برے،گناہ و ثواب کی بات کرتا ہے۔ کاش اتنی سی بات تیری سمجھ میں آ جاتی کہ کچھ گنا بھی گناہ نہیں ہوتے بلکہ ثواب ہو جاتے ہیں اور کچھ ثواب بھی حقیقت میں ثواب نہیں ہوتے بلکہ گناہ ہو جاتے ہیں۔

Advertisement
عالم ازل سے تابہ ابد بے کراں سکوت
لیکن نکل ہی جاتی ہے کچھ آہ آہ بھی

شاعر کہتا ہے کہ گو عالم میں ازل سے لے کر ابد تک یعنی ابتدا سے انتہا تک ایک ایسی خاموشی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں ہے پھر بھی اس دل سے کبھی کبھی آہ نکل ہی جاتی ہے۔

محو خطاب، ناصح مشفق ہوں اے فراقؔ
کچھ مجھ سے کہہ رہی ہے وہ چشم سیاہ بھی

شاعر کہتا ہے کہ گو ناصح مشفق یعنی نصحیت کرنے والے مہربان خطاب کر رہے ہیں،وعظ و نصیحت کر رہے ہیں لیکن اے فراق محبوب کی سیاہ آنکھیں بھی ہم سے کچھ کہہ رہی ہیں۔گویا وہ بھی اپنا جادو جگا رہی ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement