غزل

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
باوجود حسن، تو آگاہ رعنائی نہ تھا
عشق روز افزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھی
جلوۂ رنگیں پہ تجھ کو نازِ یکتائی نہ تھا
دید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگی
جب کہ تیرا حسن، سرگرم خود آرائی نہ تھا
کیا ہوئے وہ دن کہ محوِ آرزو تھے حسن و عشق
ربط تھا دونوں میں،گو ربطِ شناسائی نہ تھا
تو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیب رسم عاشقی
اس سے پہلے اعتبار شان رسوائی نہ تھا

تشریح

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
باوجود حسن، تو آگاہ رعنائی نہ تھا

یہ غزل،غزل مسلسل کا رنگ لیے ہوئے ہے۔پہلے شعر میں شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ وہ دن تمہیں یاد ہیں۔اور اگر نہیں ہے تو یاد کر کہ تمہارا کوئی عاشق نہیں تھا۔کوئی تمہارا دیوانہ نہیں تھا۔اس کے باوجود کہ تو حسین تھا لیکن تو اپنے حسن و جمال سے آگاہ نہیں تھا۔ وہ بھی کیا خوب دن تھے۔

عشق روز افزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھی
جلوۂ رنگیں پہ تجھ کو نازِ یکتائی نہ تھا

شاعر کہتا ہے کہ ہمیں بھی اپنے روز بروز بڑھتے ہوئے عشق پر کوئی حیرت نہیں ہوتی تھی اور تو بھی وہ رنگین جلوہ رکھتا تھا جو بے نظیر تھا۔مگر تجھے اس بے نظیر جلوے پر گھمنڈ نہیں تھا۔

دید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگی
جب کہ تیرا حسن، سرگرم خود آرائی نہ تھا

اے محبوب جب تیرا حسن خود آرائی میں اس طرح سرگرم نہیں تھا۔ہر وقت بننے سنوارنے میں محو نہیں رہتا تھا۔میرا عشق آسانی سے اپنی حسرت پوری کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں سوچا۔لہذا اس کی سادگی بھی اس وقت دیکھنے کے قابل تھی۔

کیا ہوئے وہ دن کہ محوِ آرزو تھے حسن و عشق
ربط تھا دونوں میں،گو ربطِ شناسائی نہ تھا

شاعر محبوب کو مخاطب کر کے پوچھتا ہے کہ بتاؤ وہ دن کہاں گئے ان دنوں کا کیا ہوا کہ جب حسن اور عشق دونوں ایک دوسرے کی آرزو میں محو تھے۔آرزو میں کھوئے رہتے تھے۔دونوں میں ایک ربط تھا،تعلق تھا کہ دونوں ایک دوسرے کی آرزو رکھتے تھے لیکن وہ تعلق ایسا تعلق تھا جس کی پہچان نہیں تھی۔کہ جس کو جانتے نہیں تھے۔

تو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیب رسم عاشقی
اس سے پہلے اعتبار شان رسوائی نہ تھا

اے حسرتؔ تو نے عاشقی کی شان بڑھائی ہے۔عاشقی کی رسم شائستگی تجھ سے عیاں ہوئی ہے،ظاہر ہوئی ہے۔تمہارے سبب سے عشق جو بد نام زمانہ ہوتا ہے، کا رتبہ بلند ہو گیا ہے۔اس کی شان بڑھ گئی ہے۔تم سے پہلے عشق کی بدنامی کا یہ مرتبہ نہیں تھا۔اس کی شان کا کوئی اعتبار نہیں تھا۔

Advertisements