• مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا
  • پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا
  • برا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا
  • کبھی گمراہ ہو کر راہ پر آنا نہیں آتا
  • ازل سے تیرا بندہ ہوں، ترا ہر حکم آنکھوں پر
  • مگر فرمان آزادی بجا لانا نہیں آتا
  • مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
  • بہانہ کر کے تنہا پار اُتر جانا نہیں آتا
  • مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
  • مجھے سر مار کر تیشے سے ، مر جانا نہیں آتا
  • دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہمان
  • وہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا
  • اسیر و شوق آزادی مجھے بھی گدگداتا ہے
  • مگر چادر سے باہر پاؤں پھیلانا نہیں آتا
  • سراپا راز ہوں میں کیا بتاؤں ، کون ہوں ، کیا ہوں
  • سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا
Advertisements