یہاں وہ میرے دل پہ کوئی ستم ڑھا رہا تھا
وہاں وہ اور کا ہونے کی قسم کھا رہا تھا

واسطہ خدا کا دے کر اس نے مجھ سے رخصتی لی
میں دیکھ رہا تھا اسکو جو آخری رسم نبہا رہا تھا

فقیر بولا کہ بیٹا دیکھو کہاں پہ تیر لگا ہوا ہے
میں بیخودی سے بھرا ہوا تھا سو اپنا جسم دکھا رہا تھا

وہاں وہ محفل خوشی میں گم، یہاں یہ رات عزاب مجھ پر
وہ اپنی مہندی سجا رہا تھا میں اپنے چشم سُکھا رہا تھا

دوا نہیں تھی مرض کی کوئی فراقِ یار شدید تر تھا
میں اس کا دیدار کر رہا تھا وہ مجھکو زم زم پلا رہا تھا

میں حال اپنا بتا نہ پایا وہ اس کا وعدہ نبہا نہ پایا
وہ اسکی باتوں کا وہ خلاصہ میں دم بہ دم بھلا رہا تھا

ختم شدی پر میں کہہ رہا تھا،جی! درد کو سہہ رہا ہوں
وہ ہنس کے بولے خوشی ہو تم کو پھر اپنا ہمدم دکھا رہا تھا

بہت سہا ہے بہت بہا ہے بہت سنا ہے بہت کہا ہے
بہت سے عرفاں ہیں دیکھے میں نے میں اپنے زخم چھپا رہا تھا