Advertisement
یہ جو انبساط ہے
چار دن کی بات ہے

ہر قدم پہ مات ہے
بس یہی حیات ہے

باقی سب ڈھکوسلا
اک خدا کی ذات ہے

سب اسی کے کھیل ہیں
دن کہیں پہ رات ہے

تجھ سے کیا مقابلہ
تو اندھیری رات ہے

مختصر سی بات ہے
زیست ہی ممات ہے

اِندرؔ اس زمانے میں
کون خوش صفات ہے
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement