غزل

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
یاد آرہے ہیں عشق کے ٹوٹے تعلقات
مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق
اب بھی کوئی بنالے،تو بگڑی نہیں ہے بات
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
جن کا سراغ پا نہ سکی غم کی روح بھی
ناداں ہوئے ہیں عشق میں ایسے بھی سانحات
ہر سعی و ہر عمل میں محبت کا ہاتھ ہے
تعمیر زندگی کے سمجھ کچھ محرکات
مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ
دے فرصتِ حیات نہ جیسے غم حیات

تشریح

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
یاد آرہے ہیں عشق کے ٹوٹے تعلقات

شاعر کہتا ہے کہ پھولوں کی خوشبو کا لطیف بہاؤ، یہ معطر ہوا اور حسین رات، ایک دلکش ماحول پیدا ہو گیا ہے اور ایسے میں عشق کے وہ تعلقات کہ جو اب ٹوٹ چکے ہیں رہ رہ کر یاد آتے ہیں۔

مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق
اب بھی کوئی بنالے،تو بگڑی نہیں ہے بات

شاعر کہتا ہے کہ عشق کو حسن کے ہاتھوں مایوسیوں اور ناکامیوں کے سِوا کچھ ہاتھ نہیں آیا اور اب اس کی حالت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ یہ مایوسیوں کی آغوش میں دم ہی توڑے جا رہا ہے۔مگر بات ابھی اتنی زیادہ بگڑی بھی نہیں ہے۔اگر حسن بات کو بنانا چاہے تو بن بھی سکتی ہے۔گویا محبوب نظرِ کرم کرے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

شاعر کہتا ہے کہ ہم نے تیرے انتظار میں ایک مدت گزار دی ہے۔ایک عمر سے تیرا انتظار کیے جارہے ہیں۔اس صبر آزما اور جان لیوا انتظار میں جی رہے ہیں۔یہاں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جو جدائی کی رات برداشت نہیں کر سکے۔یعنی رنجِ جدائی کی تاب نہیں لا سکے اور مر کھپ گئے۔

جن کا سراغ پا نہ سکی غم کی روح بھی
ناداں ہوئے ہیں عشق میں ایسے بھی سانحات

عشق کا ہرحادثہ باعثِ رنج و الم ہوتا ہے لیکن شاعر کہتا ہے کہ عشق میں کچھ ایسے حادثے بھی ہوئے ہیں کہ جن کا کوئی دکھ نہیں ہوا بلکہ غم کو ان کا پتا تک نہیں چلا۔

ہر سعی و ہر عمل میں محبت کا ہاتھ ہے
تعمیر زندگی کے سمجھ کچھ محرکات

شاعر محبت کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر کوشش اور عمل کے پیچھے دراصل محبت ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہ محبت ہی ہے جو زندگی کی تعمیر وترقی اور بنانے کو تحریک دینے والی ہے۔

مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ
دے فرصتِ حیات نہ جیسے غم حیات

شاعر کہتا ہے کہ اے فراقؔ مجھ کو تو غموں نے غم اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دی۔گویا عمر بھر غموں نے گھیر رکھا۔اب کہیں ایسا نہ ہو کہ جیسے حیات کے غم نے فرصت نہیں دی ویسے ہی زندگی بھی مہلت نہ دے۔

Advertisements