Advertisement
از قلمابو عمر غلام مجتبیٰ قادری

مولویوں کا سب سے بڑا جھوٹ کہ دین میں کوئی زور زبردستی نہیں اس کیپشن کے ساتھ ہی خبر منسلک تھی کہ داڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے ایک شخص کو کام کرنے سے روک دیا گیا ( یعنی نوکری سے نکال دیا گیا ) : اس کے بعد ایک اسلامی ملک اور اس کی حکومت کا نام اور خبر کا لنک ڈال دیا گیا۔ اولاً تو کسی فرد ، پارٹی ، تحریک یا ملک کے فعل کو دین کہنا ہی جہالت ہے کیونکہ دین قرآن و سنت ہے نا کہ کسی فرد یا حکومت کا قول ، اگر کسی کو معلوم نہیں کہ دین میں آسانی و نرمی کیسے ہے تو کسی عالم سے معلومات لے یا اپنا مطالعہ وسیع کرے بغیر علم کے الزام تراشی سے تو کم سے کم اجتناب کرنا چاہیے۔

ثانیاً دین میں آسانی و وسعت ہے یہ امر ایک روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ قران پاک میں ارشاد ہے؛
لا اکراہ فی الدین
دین میں کوئی جبر نہیں۔

اسی آیت کی تفسیر میں امام فخر الدین الرازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جبر اور اکراہ جائز نہیں اس لیے کہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اگرجبر ہو تو امتحان کامعنیٰ ہی ختم ہوجاتاہے۔ اس کی نظیر اللہ پاک کا دوسرا ارشاد بھی ہے۔ جوشخص چاہے ایمان لے آئے جو شخص چاہے کفر اختیار کرے۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؛ کہ جبر کرنے سے منع ہے کیونکہ دنیا میں مقصد امتحان ہے اگر جبر کیاجائے تو امتحان کامعنیٰ ختم ہوجاتاہے۔ تفاسیر کے مزید حوالے پیش نہیں کیے جاتے ورنہ مضمون طول پکڑ جائے گا۔

ثالثاً دین میں جہاں ایک طرف زور زبردستی کرنے سے منع کیا ہے وہیں دوسری طرف آسانی پیدا کرنے کا حکم بھی دیا ہے؛ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-
ترجمۂ کنزُ الایمان
: ”اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دُشواری نہیں چاہتا۔“

اللہ پاک تم پر آسانی فرماتا ہے تنگی دشوری زبردستی جبر و اکراہ نہیں چاہتا۔ اتنے روشن فرامین کے بعد بھی اگر کوئی کہے کہ دین میں جبر و اکراہ ہے اور مولویوں کی طرف سے جھوٹ بولا جاتا ہے تو پھر تو اسے کسی ماہر نفسیات سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔

اسی طرح اگر احادیث مبارکہ سے اکتساب فیض کیا جائے تو حدیث میں فرمایا گیا؛
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
آسانیاں پیدا کریں تنگی پیدا نا کریں خوشخبری سنائیں نفرت نا دلائیں
شریعت تو یہ ہے کہ آسانی پیدا کریں تنگی پید ا نا کریں دین تو اسی آسانی کا نام ہے جس کا قرآن پاک میں بھی اور حدیث مبارکہ میں بھی حکم دیا گیا ہے۔

ایک اور جگہ فرمایا ’’إن ‌الدين یسر ، ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه ‘‘
ترجمہ بے شک دین آسان ہے اور جو شخص بھی دین پر غلبہ حاصل کرنےکی کوشش کرے گا، اُس پر دین غالب آ جائےگا۔

اسی طرح ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سفر میں دیکھا کہ اس پر ہجوم ہے اور لوگوں نے سایہ کیا ہوا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے تو لوگوں نے کہا کہ اس نے سفر میں روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ یعنی دین تمہیں کوئی پچھاڑنے تھوڑا آیا ہے، وہ تو تمہیں کھڑا کرنے آیا ہے۔ اب ایسا بھی دین پر کیا عمل کہ دین تمہیں زمین پر ہی گرا دے۔

اب اندازہ لگائیں کہ جو دین میں سختی کرے گا وہ خود دین سے مغلوب ہوجائے گا ، دین نے تو اتنی آسانی دی ہے کہ فرمایا کہ سفر میں روزہ ررکھنا کوئی نیکی نہیں کیونکہ دین تو تمہیں عروج دینے آیا ہے گرانے کیلیے نہیں۔

اب یہاں پر سوال ایک پیدا ہوتا ہے کہ جو قران و حدیث میں دین آسان کہا گیا ہے وہ کیسے ہے کہاں ہے وہ آسانی ؟

اس کی کچھ مثالیں پیش کی جائیں تو سمجھنے میں مزید آسانی ہو جائے گی کہ دین میں کیسے آسانی ہے ؟ اور کہاں آسانی ہے ؟

نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن اگر کوئی شخص کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتا تو لیٹے لیٹے ہی اشاروں سے پڑھ لے ، کیا یہ آسانی نہیں ؟

یہی نماز ہے جب بندہ سفر میں ہے تو چار کے بجاء دو رکعت پڑھے ، کیا یہ آسانی نہیں ؟ رمضان کا روزہ فرض کیا گیا ہے لیکن مسافر کو گھر واپس آکر مقیم ہونے کے بعد رکھنے کی اجازت آسانی نہیں ؟ غسل و وضو کیلیے پانی نا ہو یا پانی استعمال کرنا شدید مضر ہو تو مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت کیا آسانی نہیں ؟

بھول و نسیان پر شریعت کا مؤاخذہ نا کرنا کیا آسانی نہیں ؟
شریعت کے بے شمار احکامات میں اسی طرح کی نرمی اور لچک ہے اور کیوں نا ہو کہ انسان پر تو اس کی طاقت و وسعت سے بڑھ کر کبھی بھی کہیں بھی کوئی حکم ہی نہیں لگایا گیا جیسا کہ رب کریم ارشاد فرماتا ہے
القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 286
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ
اللّہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔

جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے کم سے کم وہ تو یقین کر لے گا کہ بے شک انسان پر دین میں اس کی طاقت سے بڑھ کر آزمائش و امتحان نہیں ہے۔