Advertisement

تعارفِ سبق

سبق ”شہید“ کے مصنف کا نام ”مرزا ادیب“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”مٹی کا دیا“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

مرزا ادیب کا اصل نام مرزا دلاور حسین علی اور قلمی نام مرزا ادیب ہے۔ آپ کی ولادت ۱۹۱۶ء میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام مرزا بشیر علی تھا۔ اسلامیہ کالج لاہور سے آپ نے بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ کو لکھنے لکھانے کا بہت شوق تھا۔ اس لیے مختلف رسائل میں مضامین بھی لکھے۔ رسالہ ”ساقی“ میں افسانہ نگاری شروع کی۔ مشہور رسالے ”ادبی دنیا“ میں بھی آپ کے مضامین اور افسانے شائع ہوئے۔ آپ ”ادبِ لطیف“ کے مدیر بھی رہے۔ اس دوران آپ ریڈیو کے اسکرپٹ بھی لکھنے لگے۔ ایک ایکٹ ڈرامہ لکھنے میں انھیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ آپ کی شہرت کی ایک وجہ آپ کی کتاب ”صحرا نورد کے خطوط“ بھی ہے۔

Advertisement

”جنگل ، کمبل ، خاک نشین ، مٹی کا قرض ، مٹی کا دیا، آنسو اور ستارے، شیشہ میرے سنگ، خوابوں کے مسافر اور پس پردہ فصیل شب، شیشے کی دیوار اور ماموں جان“ آپ کی مشہور تصنیفات ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر 1: اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجئے۔

اس سبق میں مصنف ایک گھرانے کا ذکر کرتے ہیں جو بہت خستہ حال ہے اور جس کی مرمت بھی نہیں کی گئی ہے۔ وہاں ٹیبل پر ایک لڑکی رضیہ بیٹھی رو رہی ہوتی ہے۔ اس کی ماں وہاں آکر اسے چپ کراتی ہے۔ اس کا باپ بھی وہاں آجاتا ہے اور پوچھتا ہے رضیہ کو کیا ہوا تو اس کی ماں بتاتی ہے کہ آج جاوید کی سالگرہ ہے اس لیے رضیہ رو رہی ہے۔

باپ بیٹی باہر چلے جاتے ہیں۔ رضیہ کی ماں کے پاس شاداں آجاتی ہے، جو اس کی ہمسایہ ہوتی ہے۔ شاداں اسے پوچھتی ہے کیا ہوا تو فاطمہ اسے بتاتی ہے کہ آج میرے بیٹے جاوید کی سالگرہ ہے۔ رضیہ اپنے بھائی کی سالگرہ بہت شوق سے مناتی تھی، لیکن پچھلے سال جب جاوید اپنی سالگرہ پر گھر آیا تھا تو دوست احباب اس تحائف دے رہے تھے۔

Advertisement

رضیہ بھی جاوید کو ہار پہنانے کے لیے ہار لینے گئی تب دروازے پر دستک ہوئی اور جاوید کو ڈیوٹی جوائن کرنے کا حکم دیا گیا، جاوید اسی لمحے واپس چلا گیا اور شہید ہو گیا۔ اسی وقت رضیہ کو کوئی سایہ نظر آتا ہے اور وہ اپنے بھائی سے مخاطب ہو کر باتیں کرنے لگتی ہے۔ پھر اس کا بھائی اسے ہار پہنانے کا کہتا ہے اور پھر وہاں سے جانے لگتا ہے۔

رضیہ بھائی جان، بھائی جان کہتی چیخ اٹھتی ہے تو سب لوگ وہاں جمع ہوجاتے ہیں۔ وہ بتاتی ہے کہ میں نے ابھی جاوید بھائی کو دیکھا لیکن کوئی یقین نہیں کرتا، تب ہی شاداں ہار اٹھاتی ہے اور چیخ کر کہتی ہے :
” لہو لہو، ہار پر لہو۔ سچ مچ لہو!“

Advertisement

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ کے جملے بنائیے :

الفاظجملے
آرائشمجھے اپنے گھر کی آرائش کرنے کا بہت شوق ہے۔
کپکپاہٹسردی کے باعث احمد پر کپکپاہٹ طاری ہوگئی۔
سعادتحج ادا کرنا ایک بہت بڑی سعادت ہے۔
جائے وقوعپولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔
مدھمصبح کے وقت کوئل کی مدھم سریلی آواز سے انسان کو بہت سکون ملتا ہے۔
شفقرات کو شفق پر تاروں کی چادر بچھی رہتی ہے۔
دم بہ خودمیں اپنے دہم جماعت کے نتائج دیکھ کر دم بہ خود رہ گئی۔
کھ رکھاؤہمیں اپنے گھر کے رکھ رکھاؤ کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

سوال نمبر 3 : جاوید شہید کا واقعہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

جاوید کی سال گرہ کا دن تھا۔ وہ اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ اس کی بہن نے اس کی سال گرہ کے لیے خوب تیاریاں کی تھیں۔ دوست احباب جاوید کو تحفے تحائف دے رہے تھے۔ جاوید کی بہن اپنا ہار لے کر آئی ، وہ جاوید کو ہار پہنانے لگی کہ دروازے پر دستک ہوئی اور جاوید کو ڈیوٹی پر آنے کا حکم ملا۔ جاوید اسی لمحے ڈیوٹی پر چلا گیا اور ۶ ستمبر ۱۹۶۵ کی جنگ میں شہید ہوگیا اور پھر کبھی گھر واپس نہ آ سکا۔

سوال نمبر 4 : ‘حبِ وطن’ کے موضوع پر مکالمہ تحریر کیجیے۔

  • علی : ” اور بلال بھائی کہاں ہو آج کل نظر ہی نہیں آتے؟“
  • بلال : ”مجھے فوج میں سلیکٹ کرلیا گیا ہے، ٹریننگ ہورہی تھی، کچھ روز پہلے گھر واپس آیا ہوں، کل میری جوائننگ ہے۔“
  • علی : ” فوج میں جانے کا کیا فائدہ ؟ تنخواہ بھی اتنی کم ملتی ہے اور لوگوں سے بھی گالیاں سنو، اس سے اچھا بندہ کوئی نوکری کرلے یا اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کردے۔ “
  • بلال : ” لیکن اس وطن کو بہت مشکلوں سے حاصل کیا ہے اور اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس ملک کی حفاظت کریں۔ “
  • علی : ” لیکن یہ صرف ہمارا فرض نہیں ہے اور صرف ہمارے ایسا سوچنے سے کیا ہوجائے گا۔ “
  • بلال : ” اگر سب یہی سوچنے لگیں کہ میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا تو اس ملک کی حفاظت کیسے ہوگی، مجھے اس ملک سے محبت ہے اور کوئی کچھ کرے یا نہ کرے میں اپنے وطن کی حفاظت اپنی آخری سانس تک کرتا رہوں گا۔ “
  • علی : ” آپ تو بہت زیادہ محبت کرتے ہیں پاکستان سے، اگر سب آپ کی طرح سوچنے لگیں تو کوئی ہمارے ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ “
  • بلال : ” شکریہ، اب میں چلتا ہوں مجھے دیر ہورہی ہے۔ اللہ حافظ۔ “
  • علی : ” اللہ حافظ۔ “

سوال نمبر 5 : مرزا ادیب نے اس ڈرامے میں کیا پیغام دیا ہے؟

مرزا ادیب نے اس ڈرامے میں یہ پیغام دیا ہے کہ ہمارے جوان ہمارے ملک کے لیے اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اور ان کے گھر والے بھی صبر کرتے ہیں۔ اور یہ کہ شہید کبھی بھی مرتے نہیں ہیں بلکہ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر 6 : درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیے :

الفاظاعراب
لہولہُو
غم گینغَم گِین
افسردہاَفسُردہ
اختیاراِختِیار
مقاممقَام
Advertisement

Advertisement

Advertisement