Advertisement

شاعر : میر تقی میر

Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

میر تقی میر آگرے میں پیدا ہوئے۔ آپ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ آپ کی غزلوں میں انسانی جذبات ، درد و غم ، خود داری ، توکل ، قناعت پایا جاتا ہے۔ آپ کے علمی سرمائے میں چھ دیوان ، اردو شعرا کا ایک تذکرہ ، متعدد مثنویاں ، مرثیے ، ایک سوانح حیات اور ایک فارسی دیوان شامل ہے۔ میر تقی میر کا سارا کلام کلیاتِ میر کی شکل میں موجود ہے۔

Advertisement
گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ دنیا میں پھول کتنے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ ان پھولوں سے ہی دنیا کی خوبصورتی برقرار ہے۔ پھولوں کے مختلف رنگ اور خوشبوؤں سے یہ دنیا حسین ہے۔وہ فریاد کرتے ہں کہ کاش ان پھولوں کو زوال نہ ہوتا یہ پھول سدا سے ایسے کھلے رہتے۔ مختلف رنگ اور خوشبوئیں ہمیشہ کے لئے ہوتی، نہ یہ مرجھاتے نہ ان پر خزاں کا موسم اترتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اچھا وقت اور خوشگوار حالات ہمیشہ کے لیے رہیں کہیں کوئی رنج و ملال کا عالم نہ ہو۔ ہر انسان خوش ہو کسی کو کوئی مصیب نہ گھیرے۔وہ چاہتے ہیں کہ خوشیاں جاویداں اور لازوال ہو جائیں۔

یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری
اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں نے ساری زندگی اپنے محبوب کی نظر کرم کے لئے صرف کردی۔ محبوب کے دیدار کےلیے اس کے در پر جاتا اور رسوا ہو کر واپس آجاتا۔ محبوب نے مجھ سے کبھی بھی خوش اسلوبی سے بات نہیں کہ بلکہ ہمیشہ مجھ سے نالاں ہی رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ کاش میرا محبوب مجھے موت سے پہلے دو گھڑی مل لیتا۔ اسے میری بسیار محبت نظر آجاتی۔وہ مجھے مرنے سے پہلے ایک نظر کو نظر آجاتا مگر یہ حسرت ہی رہی اس پر میری محبت اس طرح کھلی ہی نہیں کہ وہ میری اس خواہش کو پورا کرتا۔ مرتے وقت بھی میرے دل میں یہی حسرت ہے کہ کاش میرا محبوب مجھ پر ایک مہربانی کر لے۔ وہ کہتے ہیں کہ میر آنکھوں کے بند ہونے سے ہی کاش میرا محبوب مجھے آکر اپنا چہرہ دکھا جائے تاکہ میں یہ دید کی خواہش لے کر نہ مروں۔

Advertisement
کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں
رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ عہد زوال مغلہ تھا، ہر جانب لوگ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ایسا افراتفری کا عالم تھا کہ کسی کو کسی کی فکر نہیں تھی۔ اس دور میں میر جیسے قادرالکلام شاعر کی حق تلفی ہوئی۔ لوگوں نے ان کو وہ پزیرائی نہ دی جس کے وہ حق دار تھے۔ میر اس دور میں گمنامی کی زندگی میں رہے، جنگ کے سما میں لوگ اپنی اپنی مصیبتوں سے گھرے تھے جس میں میر اور اس کی شاعری فراموش ہو گئی۔ میر اس دور کا شاعر ہے جب لوگ حالت جنگ میں تھے، ہر کوئی اپنے دکھ مبتلا تھا۔ ایسے میں کسی نے بھی میر کے دکھ کو نہ سمجھا نہ اس کی ڈھارس بندھائی۔

جان آخر تو جانے والی تھی
اس پہ کی ہوتی میں نثار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ بہتر تو یہی تھا کہ میں اپنی جان اپنے محبوب پر نثار کر دیتا۔ میں نے دیوانہ وار اس کے عشق میں دردر کی خاک چھانی ہے۔ میں گھر سے نکل گیا گلیوں کوچوں میں اس کی دیوانگی میں گھومتا رہا۔ اس نے اپنا حال بےحال بنا رکھا ہے۔ عشق میں عاشق اپنا سب کچھ لٹا دینا ہی اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ میر کہتے ہیں کہ زندگی تو یوں بھی فانی تھی اسے اپنے محبوب پر قربان کردیتا تو اچھا ہوتا۔ میر چاہتے ہیں کہ کاش وہ اپنی زندگی محبوب پر نچھاور کر دیتے عشق کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے اور محبوب کی نظروں میں سرخرو بھی ہو جاتا۔ مگر وہ اس سعادت سے محروم رہے۔

Advertisement
اس میں راہ سخن نکلتی تھی
شعر ہوتا ترا شعار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ میرا محبوب میرے اشعار کو سمجھتا نہیں۔ یہ اشعار نہیں میرے احساسات ہیں۔ میر وہ بات جو نثر میں نہیں کہی جا سکتی شعر میں کہنے والے شاعر ہیں۔ میر اشاروں کنایوں میں اپنے محبوب سے شکوہ کرتے ہیں مگر ان کا محبوب یہ بات نہیں سمجھتا ، وہ میر کی کیفیت سے بے خبر ہے۔ میر چاہتے ہیں وہ اپنے محبوب سے اشعار میں اپنے دل کا حال بیان کردیں اور وہ اشعار کی زبان سمجھ کر میر کے درد سے آشنا ہو جائے۔ میر اپنے اشعار میں اپنے جذبات بیان کرتے ہیں جو ان کا محبوب سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کہتے ہیں کاش تم شاعر ہوتے تو میرے دل کے حال سے واقف ہوتے۔

شش جہت اب تو تنگ ہے ہم پر
اس سے ہوتے نہ ہم دوچار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ جوانی میں میر کسی کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ وہ جوانی کا پہلا عشق تھا مگر میر ناکام رہے۔ اس ناکامی نے میر کو نڈھال کر دیا ، ان کو دکھ میں مبتلا کر دیا۔وہ پھر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے دل کسی کے سامنے پیش کرکے مصیبت مول لے لی ہے۔اب کہیں سکون میسر نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے خود ہی ان مصائب کو اپنی ذات پر ستم کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کا اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ ہماری اپنی ذات ہے۔ وہ ان مشکلات میں محبوب سے کہتے ہیں کہ میں تمہارے عشق میں مکمل برباد ہو گیا۔ میری ہستی تباہ ہوگئی، مگر تم نے میری چارہ سازی نہ کی اور میرے غم پر مرہم بھی نہیں رکھا۔

Advertisement

سوال نمبر 1 : آپ میر کی دوسری غزل کے قوافی اور ردیف کی نشان دہی کریں۔

جواب : میر کی دوسری غزل میں لفظ ”قرار، بہار، بار، شمار، نثار، شعار، دو چار“ بطور قوافی استعمال ہوئے ہیں ، جبکہ ”اے کاش“ ردیف ہے۔

سوال نمبر 2 : غزل کا پہلا شعر ، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، مطلع کہلاتا ہے۔ میر کی دونوں غزلوں کے مطلعے لکھیں اور ان کی تشریح کریں۔

جواب :

Advertisement

غزل نمبر ایک کا مطلع

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ انسان دو مختلف معیارات پر زندگی گزارتا ہے۔ جب اسے شاہی مل جائے، بلندی و عروج مل جائے۔ اسے مال و ثروت میسر ہو تو وہ عموماً غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اس بہترین زندگی کا یوں عادی بن جاتا ہے کہ اس کے تصورات میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ یہ خوشی و شادمانی کا دور ہمیشگی کا ہے۔ وہ اس بات سے غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی کہ کون بندہ میرا شکر گزار ہے۔ پھر کوئی تبدیلی رونما ہو تی ہے جس سے وہ مال و ثروت انسان سے جاتا رہتا ہے۔ انسان کی صحت بھی پہلے جیسی اچھی نہیں رہتی اور وہ شاہانہ زندگی کا دور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس پر جو مفلسی حملہ آور ہوتی ہے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دنیا امتحان گاہ ہے انسان اسے اپنی منزل بنا لیتا ہے پھر اسے نقصان کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

غزل نمبر دو کا مطلع

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ دنیا میں پھول کتنے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ ان پھولوں سے ہی دنیا کی خوبصورتی برقرار ہے۔ پھولوں کے مختلف رنگ اور خوشبوؤں سے یہ دنیا حسین ہے۔وہ فریاد کرتے ہں کہ کاش ان پھولوں کو زوال نہ ہوتا یہ پھول سدا سے ایسے کھلے رہتے۔ مختلف رنگ اور خوشبوئیں ہمیشہ کے لئے ہوتی، نہ یہ مرجھاتے نہ ان پر خزاں کا موسم اترتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اچھا وقت اور خوشگوار حالات ہمیشہ کے لیے رہیں کہیں کوئی رنج و ملال کا عالم نہ ہو۔ ہر انسان خوش ہو کسی کو کوئی مصیب نہ گھیرے۔وہ چاہتے ہیں کہ خوشیاں جاویداں اور لازوال ہو جائیں۔

Advertisement

سوال نمبر 3 : مندجہ ذیل سوالات کے جوابات میں سے درست جواب پر نشان (✓) لگائیں۔

۱ : ”جس سر کو غرور آج ہے یاں تا جوری کا“ کس شاعر کی غزل کا مصرع ہے؟

  • ٭علامہ اقبال کی
  • ٭مولانا حالی کی
  • ٭آتش کی
  • ٭میر تقی میر کی(✓)

۲ : گل کو ہوتا صبا قراراے کاش!
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش!
یہ شعر غزل میں کیا ہے۔

٭مطلع(✓)
٭مقطع
٭قافیہ
٭ردیف
۳ : ٹک میر جگر سوختہ کی خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحر کا
یہ شعر غزل میں کیا ہے؟

٭مطلع
٭مقطع(✓)
٭قافیہ
٭ردیف

۴ : میر تقی میر کی وجہ شہرت کیا ہے؟

٭نظم گوئی
٭مثنوی نگاری
٭غزل گوئی(✓)
٭مزاحیہ شاعری

Advertisement

سوال نمبر 4 : مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کے معنی لکھیں۔

تاج وری شان و شوکت
بیداد گریظلم وستم
چراغ سحری مراد قریب الموت آدمی
شش جہت چھ اطراف
قرار سکون
Advertisement

Advertisement

Advertisement