Advertisement
  • سبق : جدید سائنس اور عصری تقاضے
  • مصنف : ” ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی “

تعارفِ سبق

سبق ” جدید سائنس اور عصری تقاضے “ کے مصنف کا نام ”ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی“ ہے۔

Advertisement

خلاصہ

اس سبق میں مصنف سائنس اور عصری تقاضوں کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائنس نام ہی ایسے علم کا ہے جس نے تجربہ سے جنم لیا ہو اور اس کو تجرباتی علم بنانے والوں میں مسلمان سائنسدانوں میں جابربن حیان، جا حظ، خوارزمی، یعقوب الکندی، رازی، فارابی، زہراوی، ابن الہیثم ، ابن سینا ، محمد خیام ابن رشد وغیرہ شامل ہیں۔

یورپی اقوام نے جہالت کی تاریکی دیکھی اور ایسے دور کرنے کے لیے ایک حل نکالا۔ وہ اسپین جاتے اور وہاں مسلمانوں سے سائنسی علوم سیکھتے اور واپس جاکر اپنے لوگوں کو بھی سیکھاتے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئیں بڑے مسلمان سائنس دانوں کی تصانیف کے تراجم بھی کروائے۔ اور یہ کام تین صدیوں میں بھی مکمل نہ ہوپایا۔ سائنس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ذرائع اختیار کرکے انسان نے زمین کے نیچے چھپے ہوئے بہت سے خزانے معلوم کیے ہیں، خورد بین بنائی اور اس کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود بیکڑیا اور نباتات کا مطالعہ کیا جن کا استعمال کر کے ایسی ادویات تیار کی گئی جس سے انسان کئی مہلک بیماریوں سے بچ گیا۔

موجودہ دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے اور انسانوں کی زندگیوں کو سہل ترین بنادیا ہے۔ اور سائنس کی ترقی میں حصہ لینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ بیماریوں کے علاج ، فصلوں کی بہتری ، صنتکاروں کے مشینی کام سب کچھ ہی سائنس کا محتاج ہے۔ اور جتنی سانئس ترقی کرے گی اتنی ہی انسان کی زندگی سہل ہوگی۔

سائنس کی امکانی ترقیاں پاکستانی نوجوانوں سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بھی دوسری قوموں کی طرح سائنس کے میدان میں اپنے قدم مضبوطی سے جما لیں تاکہ وہ بھی اگلی صدی میں کامیاب قوموں کی صف میں اپنا نام شامل کر پائیں۔ اگر سائنس کی تمام ترقیاں یک لخت رک جائیں تو انسانی معاشرہ جو اس وقت کامیابی کی بلندی پر ہے پستی کا شکار ہوجائے گا۔ اور جو سہولیات اس کے پاس موجود ہیں وہ ختم ہوتی جائیں گی اور انسان واپس صدیوں پیچھے چلا جائے گا۔ سائنس کی اب تک کی ترقی اس کی حد نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ اگلی صدی میں ہی ہمیں سائنس کے ذریعے ایسے ایسے فائدے حاصل ہوں کہ اب تک ملنے والے فائدے ان فوائد کے سامنے حقیر نظر آنے لگیں۔

Advertisement

سوال ۱ : سائنس کو ایک تجرباتی علم کن لوگوں نے بنایا؟

جواب : سائنس نام ہی ایسے علم کا ہے جس نے تجربہ سے جنم لیا ہو اور اس کو تجرباتی علم بنانے والوں میں مسلمان سائنسدانوں میں جابربن حیان، جا حظ، خوارزمی، یعقوب الکندی، رازی، فارابی، زہراوی، ابن الہیثم ، ابن سینا ، محمد خیام ابن رشد وغیرہ شامل ہیں۔

Advertisement

سوال ۲ : یورپی اقوام نے مسلمانوں کے سائنسی علوم سے کس طرح فائدہ اٹھایا؟

جواب : یورپی اقوام نے جہالت کی تاریکی دیکھی اور ایسے دور کرنے کے لیے ایک حل نکالا۔ وہ اسپین جاتے اور وہاں مسلمانوں سے سائنسی علوم سیکھتے اور واپس جاکر اپنے لوگوں کو بھی سیکھاتے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئیں بڑے مسلمان سائنس دانوں کی تصانیف کے تراجم بھی کروائے۔ اور یہ کام تین صدیوں میں بھی مکمل نہ ہوپایا۔

سوال ۳ : سائنسی ذرائع اختیار کر کے انسان نے زمین کے نیچے چھپے ہوئے کون کون سے خزانے معلوم کیے ہیں؟

جواب: ذرائع اختیار کرکے انسان نے زمین کے نیچے چھپے ہوئے بہت سے خزانے معلوم کیے ہیں، خورد بین بنائی اور اس کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود بیکڑیا اور نباتات کا مطالعہ کیا جن کا استعمال کر کے ایسی ادویات تیار کی گئی جس سے انسان کئی مہلک بیماریوں سے بچ گیا۔

Advertisement

سوال ۴ : سائنس کی ترقی میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

جواب : موجودہ دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے اور انسانوں کی زندگیوں کو سہل ترین بنادیا ہے۔ اور سائنس کی ترقی میں حصہ لینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ بیماریوں کے علاج ، فصلوں کی بہتری ، صنتکاروں کے مشینی کام سب کچھ ہی سائنس کا محتاج ہے۔ اور جتنی سانئس ترقی کرے گی اتنی ہی انسان کی زندگی سہل ہوگی۔

سوال ۵ : سائنس کی امکانی ترقیاں پاکستانی نوجوانوں سے کیا تقاضا کرتی ہیں؟

جواب : سائنس کی امکانی ترقیاں پاکستانی نوجوانوں سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بھی دوسری قوموں کی طرح سائنس کے میدان میں اپنے قدم مضبوطی سے جما لیں تاکہ وہ بھی اگلی صدی میں کامیاب قوموں کی صف میں اپنا نام شامل کر پائیں۔

Advertisement

سوال ٦ : اگر سائنس کی تمام ترقیاں یک لخت رک جائیں تو انسانی معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جواب : اگر سائنس کی تمام ترقیاں یک لخت رک جائیں تو انسانی معاشرہ جو اس وقت کامیابی کی بلندی پر ہے پستی کا شکار ہوجائے گا۔ اور جو سہولیات اس کے پاس موجود ہیں وہ ختم ہوتی جائیں گی اور انسان واپس صدیوں پیچھے چلا جائے گا۔

سوال ۷ : سائنس کا مستقبل کیا ہے؟

جواب : سائنس کی اب تک کی ترقی اس کی حد نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ اگلی صدی میں ہی ہمیں سائنس کے ذریعے ایسے ایسے فائدے حاصل ہوں کہ اب تک ملنے والے فائدے ان فوائد کے سامنے حقیر نظر آنے لگیں۔

Advertisement

سوال : جملے بنائیے :

الفاظجملے
تحقیق ہمیں بِنا تحقیق کئے کسی کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔
ہمہ تن شوقسائنس کے ذریعے نئی ایجادات وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس کام میں ہمہ تن شوق شامل ہوں۔
صنعتی انقلابپاکستان میں صنعتی انقلاب پاکستان کی ترقی کی نشانی ہے۔
بازیچہ اطفالغالب فرماتے ہیں کہ بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے۔

سوال : اپنے دوست کو ایک خط لکھیے جس میں جدید سائنسی دور کی تفصیل ہو۔

پیارے دوست،
خوش رہو!
تم کیسے ہو اور باقی سب گھر والے کیسے ہیں؟ کافی دنوں سے تمھارا کوئی خط نہیں ملا تو سوچا آج تمھیں میں ہی خط لکھ دوں۔ پیارے دوست میں کافی دن سے سوچ رہا تھا کہ سائنس آج کل کتنی ترقی کررہی ہے۔ اگر ہم کچھ سال پہلے کے وقت پر نظر ڈالیں تب ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا کچھ بھی ہوسکتا ہے جو آج کل ممکن ہے۔ سائنس کی ترقی کی سب سے بڑی مثال تو ہم سب کے ہاتھوں میں موجود موبائل ہے جس کی وجہ سے اب دور دراز علاقے میں رہنے والے رشتہ داروں سے بھی رابطہ رکھنا آسان ہوگیا ہے۔

اور پھر دوسری بات یہ کہ پہلے زمانے میں سفر کرنا کس قدر مشکل تھا اور اب دیکھو جہاز اور ٹرین کے ذریعے کہیں بھی بہت جلدی پہنچا جاسکتا ہے۔ اب ملکوں ملکوں گھومنا کوئی مشکل بات نہیں ہے بلکہ مجھے تو لگتا ہے آنے والے وقت میں کچھ عجب نہیں کہ اور بھی ایسی ایجادات سامنے آئیں کہ یہ سب باتیں ہمیں بہت چھوٹی لگنے لگیں۔ مجھے اس موضوع پر تمھاری رائے بھی جاننی ہے۔ اس خط کا جواب ضرور لکھنا، تمھارے خط کا مجھے انتظار رہے گا۔
فقط تمھارا دوست
ا – ب – ج

Advertisement

Advertisement

Advertisement